ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 234

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۴ جلد سوم کے متعلق اتنا نہ تھا، جتنا اب ہے ۔ وہ تو یقین کرتے تھے کہ ہم فتح پائیں گے۔ میرا مذہب تو یہ ہے خدا تعالیٰ ہی علیم و خبیر ہے۔ ضروری نہیں کہ پیغمبروں پر بھی تفصیلی حالات ظاہر کیے جائیں ۔ وہ جتنا علم چاہتا ہے دیتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اگر اس وقت آئیں تو اسلام کی اس قدر وسیع اشاعت اور ترقی کو دیکھ کر حیران ہو جائیں ۔ ے۔ اپنے تائیدی ثبوتوں کے متعلق فرمایا کہ صداقت کے چار قسم کے ثبوت اب وہ اس قدر کثرت سے ہو گئے ہیں کہ گے بھی نہیں جاتے ۔ ہر روز زیادتی ہوتی رہتی ہے۔ یہ خدا کا کلام ہے۔ مجھے بار ہا خیال آیا ہے کہ اگر کسی رئیس کو یہ خیال پیدا ہو تو جس ترتیب سے خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کی سچائی کو ظاہر کیا ہے۔ وہ ایک جلسہ کر کے اس ثبوت کو ہم سے لے۔ یہ ثبوت چار قسم کے ہیں ۔ اگر عقل کو بھی اس میں داخل کر لیا جاوے۔ (۱) نصوص قرآنیه و حدیثیہ ۔ (۲) آیات ارضی و سماویہ ۔ (۳) ضرورت مشہودہ و محسوسہ ۔ (۴) دلائل عقلیہ ۔ اس ترتیب سے اگر عیسائیوں کے اس جلسہ کی طرح ( جو ۱۵ دن تک امرتسر میں ہوتا رہا) ایک جلسہ کیا جاوے اور قیصر سوم کی طرح جس نے ایک مذہبی جلسہ کیا تھا مذہب کی تحقیقات کے لحاظ سے نہ سہی بطور تما شاہی کوئی کر کے دیکھے۔ اس طرح پر آہستگی سے منہاج نبوت پر ہمارے ثبوت سن لیے جاویں تو بہت بڑا مفید نتیجہ نکلے ۔ بے شک جس طریق پر حضرت موسیٰ کی نبوت یا حضرت عیسیٰ اور دوسرے نبیوں کی نبوت ثابت ہوتی ہے اس سلسلہ کو پرکھا جاوے۔ ۔ ایک بار حضرت نے پیشگوئیوں کے نقشہ کی تیاری کا حکم دیا تھا۔ پھر وہ نقشہ تیار ہوا۔ اس کے متعلق یاد دہانی کرائی گئی تو فرمایا کہ وہ پیشگوئیاں اب نزول مسیح میں چھپ رہی ہیں۔ ان کی عبارات کا چست کرنا بھی ضروری تھا اور اب اس سے نقشہ بھی مرتب ہو سکتا ہے۔