ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 233

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۳ جلد سوم جاوے تو حیران ہو جائیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو اپنی فوج دکھائی اور عباس کو کہا کہ ان کے پاس ٹھہر کر دکھاؤ۔ اور جب اس نے وہ نظارہ کیا تو اس نے کہا کہ تیرا بھتیجا بڑا بادشاہ ہو گیا ہے۔ مگر اُس کو جواب دیا گیا کہ بادشاہی نہیں نبوت ہے۔ براہین احمدیہ کے زمانہ پر غور کیا جاوے جب وہ چھپ رہی تھی ۔ اب تو نہیں بنائی گئی۔ اس وقت کے الہامات اس میں درج ہیں۔ جو انگریزی میں بھی ہیں اور عربی میں بھی ۔ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَانْتَهَى أَمْرُ الزَّمَانِ إِلَيْنَا أَلَيْسَ هُذَا بِالْحَقِّ - ایک مخلوق ہماری طرف رجوع کرے گی تو کہا جائے گا الَيْسَ هُذَا بِالْحَقِّ ۔ هُذَا ۔ وَانْتَهَى أَمْرُ الزَّمَانِ إِلَيْنَا عربی میں بڑا عجیب فقرہ ہے کہ زمانہ کا رجوع ہماری طرف ہوگا۔ اور آخری فیصلہ ہمارے ہی حق میں ہوگا ۔ غرض بڑی بڑی پیشگوئیاں ہیں جیسے یہ کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض ملوک کو بھی اس طرف توجہ ہوگی ۔ اور ان میں بھی اس سلسلہ کی اشاعت ہوگی ۔ ملوک اور رؤسا کے کان حق کے سننے سے بہرے ہوتے ہیں۔ نہ خود ان کو عادت ہوتی ہے اور نہ ان کے پاس والے ایسے ہوتے ہیں۔ ان کے مصاحب اور پاس رہنے والے بد وضع لوگ ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ اپنی سند دنیا کا باعث سمجھتے ہیں اگر وہ دین کی طرف توجہ کریں ۔ مگر خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ یہ مجھے برکت ڈھونڈنے والے بیعت میں داخل ہوں گے۔ اور ان کے بیعت میں داخل ہونے سے گویا سلطنت بھی اس قوم کی ہوگی ۔ پھر مجھے کشفی رنگ میں وہ بادشاہ دکھائے بھی گئے ۔ وہ گھوڑوں پر سوار تھے۔ اور چھ سات سے کم نہ تھے۔ اصل یہ ہے کہ خدا کے کام تدریجی ہوتے ہیں۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ کی گلیوں میں تکلیف اُٹھاتے پھرتے تھے۔ اس وقت کون خیال کر سکتا تھا کہ اس شخص کا مذہب دنیا میں پھیل جائے گا۔ علم خدا تعالیٰ کے سوا اور کسی کو نہیں ہوتا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے علم کا دائرہ بھی اشاعت اسلام