ملفوظات (جلد 3) — Page 231
۱۳؍اکتوبر ۱۹۰۲ء صبح کی سیر ۱۔حضرت حجۃ اللہ علی الارض حسب معمول سیر کو نکلے۔چند آدمیوں نے اپنے خواب سنائے۔آپ نے فرمایا:۔باطل میں جو تیاریاں حق کی طرف آنے کے لئے ہو رہی ہیں اس کے نظارے دکھائے جاتے ہیں۔رؤیا کا بھی عجیب عالم ہوتا ہے۔جن باتوں کا نام و نشان نہیں ہوتا وہ وجود میں لائی جاتی ہیں۔معدوم کا موجود اور موجود کا معدوم دکھایا جاتا ہے اور عجیب عجیب قسم کے تغیرات ہوتے ہیں۔آدمی کا جانور اور جانور کے آدمی دکھائے جاتے ہیں۔۲۔ہمارے موجودہ مخالفوں اور دس برس پہلے کے مخالفوں میں بہت بڑا فرق ہو گیا ہے پہلے تو اپنے عقیدوں کو سچے ہی سمجھتے تھے مگر اب صرف نفاق سے کہتے ہیں جو کہتے ہیں۔ورنہ ان عقائد کی غلطیوں کو دل میں تسلیم کر چکے ہیں (جَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْھَآ اَنْفُسُھُمْ) ایک شخص جو اپنے تئیں سچا سمجھتا ہے وہ خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے۔مگر اب یہ بھروسہ نہیں کر سکتے۔اور اسی لئے اگر خواہ کئی ہزار روپیہ کا اشتہار دیا جاوے یہ اپنے آپ کو مدمقابل ہو کر نشانہ نہ بنائیں گے۔۳۔مخالفوں کی کمی اور اپنی روز افزوں ترقی پر فرمایا۔یہ فوق العادۃ ترقی نہ ہو اگر تغیر واقع نہ ہوا ہو۔ان کا خزانہ کم ہو رہا ہے اور ہمارا بڑھ رہا ہے۔اگر ان کے پاس اپنی سچائی کے دلائل ہیں تو یہ لوگوں کو روک لیں۔اگر کوئی بڑا سیلاب آیا ہوا ہو اور کسی کا گھر تباہ ہو رہا ہو اور اس کے پاس سامان بھی ہو تو کیا وہ اس کے روکنے کی سعی نہ کرے گا۔ہمارے پاس جو ہر روز بیعت کے لئے آتے ہیں ان میں سے ہی آتے ہیں۔آسمان سے تو نہیں آتے۔۴۔ندوۃ العلماء کے جلسہ کی تقریب پر فرمایا۔کہ اشاعت رسالوں کی خوب ہو گئی۔بہت اچھا ہوا۔بہت سے لوگ واقف ہو جائیں گے