ملفوظات (جلد 3) — Page 230
ہو گیا تھا۔جب اس سے وجہ پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ میں نے ایک خواب دیکھا تھا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تاریک کوٹھڑی میں دیکھا اور اس میں آگ جل رہی تھی۔(لعنۃ اللّٰہ علیہ) گویا خبیث نے اس کو دوزخ سمجھا۔اور اس کے گرد پادریوں کو دیکھا۔اس سے میں نے نتیجہ نکالا کہ پادری حق پر ہیں۔اور آپؐ (معاذ اللہ) مغلوب ہو رہے ہیں۔مولوی صاحب کو تعبیر کا علم نہ تھا۔مجھ سے جب انہوں نے کہا۔تو میں نے کہا کہ اس کی یہی تعبیر ہے جو حالت اس شخص کی ہوئی۔چنانچہ تعطیر الانام میں ایسا ہی لکھا ہے۔کہ جب کسی نبی مامور و مُرسل کو ردّی حالت میں دیکھتا ہے مثلاً مجذوم دیکھتا ہے یا برہنہ دیکھتا ہے یا یہ کہ وہ بُری غذا کھاتے ہیں تو یہ سب اس کے اپنے ہی حالات ہوتے ہیں۔انبیاء آئینہ کا حکم رکھتے ہیں اور اس کی اصلی صورت دکھا دیتے ہیں۔اور یہ بات ہماری اپنی تجربہ کردہ ہے کہ جب کوئی آدمی کسی مامور و مُرسل کو بُری حالت میں دیکھتے ہیں تو جلدی ہی ان کی وہ حالت پیدا ہو جاتی ہے اور اس کی عقوبت کے دن قریب ہوتے ہیں۔یہ میرے مجربات سے ہے۔نو وارد مولوی حامد حسین صاحب نے کہا کہ میں مکہ معظمہ میں تھا۔حاجی امداد اللہ صاحب سے ایک شخص نے ایسا ہی کہا کہ میں نے ایسی شکل پر دیکھا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ یہ تمہاری اپنی شکل ہے۔اس کے بعد خاکسار ایڈیٹر الحکم نے جلسہ ندوۃ العلماء پر جو کارروائی کی تھی اس کا تذکرہ کیا جس کو سن کر حضرت حجۃ اللہ محظوظ ہوئے۔پھر مولوی عبداللہ صاحب نے اس روئداد کے تتمہ کے طو رپر مولوی محمد حسین صاحب کا کچھ ذکر کیا اور مولوی مبارک علی صاحب نے اپنا ایک واقعہ سنایا۔یہ سب امور جلسہ ندوہ کے متعلق ہمارے اپنے مضامین میں آئیں گے۔زاں بعد مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے نے آبزرورؔ میں سے پایونیرؔ کا نقل کیا ہوا ایک مذہب نئے عنوان سے پڑھا۔جس میں ڈاکٹر ڈوئی کو جو دعوت کی گئی ہے۔اس پر ریمارک تھا۔پھر بعد نماز عشاء اجلاس ختم ہوا۔(الحکم جلد۶ نمبر ۳۸ صفحہ ۸-۹ پرچہ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۰۲ء)