ملفوظات (جلد 3) — Page 224
ہی اعتراض ہیں۔اورہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرتے ہیں اور جاہلوں اور بد نصیبوں کو ان اعتراضات سے شک پڑ جاتے ہیں۔دوسری طرف سے یہ لوگ اس کو طمع دنیاوی دے کر ابتلا میںڈال کر مُر تد کر لیتے ہیں۔میں نے سنا ہے کہ ۲۹لاکھ آدمی کو انہوں نے ہند میں مُر تد کیا ہے پس اسلام کا سخت دشمن یہی مذہب ہے۔آریہ لوگ ہیں مگر ان کے ساتھ تو زمینی سلطنت بھی یاور نہیں وہ کیا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ایک اخبار نے اپنی تحقیقات لکھی ہے کہ آریہ مذہب کے ہونے سے ہندو بہت مسلمان ہو رہے ہیں۔مَرتے بھی بہت ہیں اور مذہب بھی بہت چھوڑتے جاتے ہیں۔پس یہ مذہب تو کچھ چیز نہیں۔طاعون کو دیکھا ہے کہ پہلے ہنود میں آتی ہے۔بمبئی، سیالکوٹ، جالندھر وغیرہ میں، پہلے ہنود سے شروع ہوئی اور جب مسلمانوں میں گئی تو بھی ہنود کو شامل کر لیا۔وحدتُ الوجود اور وحدتُ الشہود نووارد صاحب نے وجودی فرقہ کی نسبت سوال کیا۔فرمایا۔میرے نزدیک یہ بات بھی تدبّر کرنے کے لائق ہےیعنی وجود اور شہود۔میرا مذہب تو یہ ہے کہ وہاں قدم رکھنا غلطی اور جرأت ہے جہاں انسان قدم رکھنے کامستحق نہیں۔وجودی فلسفی رنگ کادعویٰ کرتا اور کہتا ہے کہ جس طرح ڈاکٹر مُردہ پھاڑ کر اس کااندر دیکھ لیتا ہے میں نے اسی طرح خدا کو دیکھ لیا ہے۔یہ بھی دعویٰ کیا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَ الْاَشْیَآءَ وَھُوَ عَیْنُھَا۔یہ بہت بڑا دعویٰ ہے۔شہودی مذہب استیلاء محبت کا نام ہے۔جیسے لوہا اگر آگ میں نہایت سرخ کیا جاوے تو اس صورت میں کوئی دیکھنے والا اگر اس کو آگ کہہ دے تو ایک صورت سے معذور ٹھہر سکتاہے کیونکہ آگ اس پر مستولی ہوئی ہوئی ہے۔کسی کا شعر ہے ؎ من تو شُدم تو من شُدی من تن شُدم تو جان شُدی تاکس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری غرض شہودی مذہب کی یہ بنا ہے کہ انسان خداکے وجودسے بہت بہرہ وَر ہو سکتا ہے جب خدا اور