ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 216

ابتلا میں پھنس جاتے ہیں۔بعض کو رشوت لینے کی عادت ہوجاتی ہے۔وہ آدمی بڑا ہی خوش نصیب ہے اور اس کو خدا کا شکر کرنا چاہیے جو کسی حکومت کے نیچے نہیں اور جسے فکر نہیں ہے کہ رات کو یادن کو کوئی آواز آئے گی۔بعض لوگ اسیسر ہونے میں اپنی عزّت سمجھتے ہیں مگر میں نے دیکھا ہے کہ وہ بڑے پابند ہوتے ہیں۔ایک بار ایک اسیسر کو جو اپنے وقت پر نہیں آیا تھا سزا ہوئی۔اس نے کہا کہ میں شادی پر یا کہیں اور گیا ہوا تھا۔حاکم نے اُسے کہا کہ کیا تم کو معلوم نہ تھا کہ میں اسیسر ہوں اور سزا دے دی۔آخر چیف کورٹ نے اس کو بَری کر دیا۔غرض اس قسم کے مصائب اور مشکلات ہوتی ہیں اور پھر ان بیچاروں کی حالت ’’تاتریاق از عراق آوردہ شود‘‘ کی مصداق ہو جاتی ہے خواہ اپیل میں بَری ہو جاویں۔مگر وہ بے عزّتی اور مصائب کا ایک بار تو منہ دیکھ لیتے ہیں۔کیا اچھا کہا ہے سعدی نے ؎ کس نیاید بخانۂ درویش کہ خراج بوم و باغ گذار جس قدر انسان کشمکش سے بچا ہوا ہو اس قدر اس کی مُرادیں پوری ہوتی ہیں۔کشمکش والے کے سینہ میں آگ ہوتی ہے اور وہ مصیبت میں پڑا ہوا ہوتا ہے۔اس دنیا کی زندگی میں یہی آرام ہے کہ کشمکش سے نجات ہو۔کہتے ہیں کہ ایک شخص گھوڑے پر سوار چلا جاتا تھا۔راستہ میں ایک فقیر بیٹھا تھا جس نے بمشکل اپنا ستر ہی ڈھانکا ہوا تھا۔اُس نے اُس سے پوچھا کہ سائیں جی کیا حال ہے؟ فقیر نے اسے جواب دیا کہ جس کی ساری مُرادیں پوری ہو گئی ہوں اس کا حال کیسا ہوتا ہے؟ اُسے تعجب ہوا کہ تمہاری ساری مُرادیں کس طرح حاصل ہو گئیں ہیں۔فقیر نے کہا جب ساری مُرادیں ترک کر دیں تو گویا سب حاصل ہو گئیں۔حاصل کلام یہ ہے کہ جب یہ سب حاصل کرنا چاہتا ہے تو تکلیف ہی ہوتی ہے۔لیکن جب قناعت کر کے سب کوچھوڑ دے تو گویا سب کچھ ملنا ہوتا ہے۔نجات اور مکتی یہی ہے کہ لذّت ہو دکھ نہ ہو۔دُکھ والی زندگی تو نہ اس جہان کی اچھی ہوتی ہے اور نہ اُس جہان کی۔جو لوگ محنت کرتے ہیں اور اپنے دلوں کو صاف کرتے ہیں وہ گویا اپنی کھال آپ اتارتے ہیں۔اس لیے کہ یہ زندگی تو بہرحال ختم ہو جائے گی۔کیونکہ یہ برف کے ٹکڑہ کی طرح ہے خواہ اس کو کیسے ہی