ملفوظات (جلد 3) — Page 215
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۵ جلد سوم ہی یہاں بھی۔ جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مشورہ کیا گیا تھا اس کا نام دارالندوہ تھا۔ وہ بھی آخری حیلہ تھا اور یہ بھی آخری حیلہ ہے۔ امرتسر مکہ کی طرح ہو رہا ہے۔ گندے اشتہار وہاں ہی سے شائع ہوتے ہیں ۔ ابوجہل کے اخوان و انصار وہاں موجود ہیں اور دار الندوہ کی کمی تھی وہ بھی آگیا۔ ( بوقت عصر ) کشمکش کی زندگی عصر کی نماز سے فارغ ہو کر جب حضرت اقدس اندر تشریف لے گئے تو لالہ شرمپت رائے اور لالہ ملا وائل جو قادیان کے آریوں میں پرانے آریہ ہیں اور حضرت اقدس کی اکثر پیشگوئیوں کے گواہ ہیں۔ اپنے اکثر احباب کو لے کر حضرت اقدس کی ملاقات کو آگئے ۔ آپ نے ان میں سے ایک شخص معمر سفید ریش کو مخاطب کر کے فرمایا ۔ دنیا کی کشمکش کی زندگی میں لذت نہیں۔ اگر خدا تعالیٰ کسی کو بیٹھے بٹھائے گزارہ دیدے تو کچھ ضرورت نہیں کہ انسان اہلِ حکومت کے پاس جاوے۔ ان لوگوں کے پاس جانا یہ بھی ایک قسم کا دوزخ ہے۔ ان لوگوں کی حالت خارش کی طرح ہے کہ جو ایک مرض ہے اور کھجلانے والوں کو اس میں ایک لذت ملتی ہے۔ لیکن وہ شخص احمق ہی ہوگا جو اس لذت کو پسند کرے۔ اسی طرح حکام کے دروازوں پر جانا ایسا ہی ہے۔ گوشہ نشینی کی زندگی ایک قسم کی بہشتی زندگی ہے۔ کسی نے کہا ہے۔ بهشت آنجا که آزاری نباشد کسے را با کسے کارے نباشد بچپن میں جو بچوں کو مدرسہ میں بٹھاتے ہیں۔ اس کی کشمکش ساری عمر یاد رہتی ہے۔ اُستاد کی حکومت کے نیچے ایک قسم کی تلخی معلوم ہوتی ہے۔ ہمیں اس وقت تک بھی یاد ہے کہ چھٹی کے دن کے بعد یعنی ہفتہ کو جو مدرسہ کا جانا ہوتا تھا تو سخت ناگوار گذرا کرتا تھا اور تو کچھ یاد نہیں رہا مگر یہ در دضرور یاد ہے کہ مدرسہ جانا ایک درد محسوس ہوا کرتا تھا کیونکہ مرضی کے خلاف بھی ایک درد ہی ہوا کرتا ہے۔ اور جو لوگ حکام کے دروازوں پر جاتے ہیں جیسے ذیلدار وغیرہ یا اور اسی قسم کے لوگ یہ عجیب عجیب قسم کے