ملفوظات (جلد 3) — Page 213
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۳ جلد سوم بہرہ ۔ طبیب اچھا ہے۔ دستِ شفا ہے۔ ان لوگوں کی بھی کچھ ایسی حالت ہے۔ جب کشتی نوح قرآن شریف سے پہ لگتا ہے کہ ب نوح کا بیا طوفان میں فرق ہونے لگا تو نوح ے پتہ نے کہا کہ تو آجا تو جا تو اُس نے کہا کہ مجھے تیرے پاس آنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ میں پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا۔ گویا وہ نادان اپنے اسباب اور تدابیر سے بچنا چاہتا تھا۔ مگر خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ آج تجھے خدا سے کوئی بچانے والا نہیں ۔ اسی طرح پر میرے الہام میں بھی یہی ہے کہ وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا وَلَا تُخَاطِبُنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ اور اس مسجد مبارک کے لیے فرما یا مَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا یہ دلالت کرتے ہیں کہ ایک طوفانِ عظیم آنے والا ہے اور اس میں وہی لوگ بچیں گے جو میری کشتی میں سوار ہوں گے۔ اور اب اني أحافظ ۔۔۔ الخ الہام بھی اس کا مؤید ہے اور وہ طاعون کا طوفان ہے اور براہین میں اس کی طرف اشارہ کر کے صاف فرمایا آتی آمرُ اللهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ اس وقت جو اس میں سوار ہوتے ہیں اور اپنی تبدیلی کرتے ہیں وہ بچ جائیں گے ۔ فرمایا۔ طاعون زمانہ کی رسم کے موافق اب لوگ طاعون کو کہتے ہیں کہ یہ معمولی بات ہے۔ یہ ایک قسم کا عام ارتداد ہے جو پھیل رہا ہے۔ جو لوگ ڈاکٹر ہوتے ہیں وہ نیم دہر یہ ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے علاج اور اسباب پر اس قدر تو کل اور تکیہ کیے ہوئے ہوتے ہیں کہ خدا سے ان کو کوئی تعلق نہیں رہتا۔ پنجاب میں طاعون کا حملہ بہت بڑھ کر ہے۔ بمبئی کراچی کا کوئی اوسط اس کے ساتھ مقابلہ نہیں کھاتا۔ اور یہ بہت بڑھی ہوئی تعداد موت کی ہے۔ پنجاب پر طاعون کا حملہ کیوں ہو رہا ہے؟ ہمارے نزدیک اس کی یہ وجہ ہے کہ خدا نے یہاں سلسلہ قائم کیا ہے تو اول المکد بین یہی لوگ ہوئے ہیں اور انہوں نے ہی کفر کے ہیں۔ بعض آدمیوں نے کہا کہ یہ طاعون گو یا ہماری شامت اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ آواز کوئی نئی آواز نہیں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی کہا گیا تھا يَطَّيَّرُوا بِمُوسی (الاعراف: ۱۳۲) مگر مجھے یہ تعجب