ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 210

انجیل کی ایک تمثیل انجیل میں ایک خمیر کی مثال ہے۔جس کو ناظرین کی دلچسپی کے لئے ہم انجیل متی کے ۳۳؍۱۳ سے نقل کرتے ہیں۔یہ مثال ڈوئی نے بیان کی ہے اور اس پر حجۃاﷲ نے مختصر سی تقریر کی۔وہ ذیل میں درج ہوگی۔وہ مثال انجیل میں یوں لکھی ہے۔’’اس نے ایک اور تمثیل انہیں سنائی کہ آسمان کی بادشاہت اُس خمیر کی طرح ہے جسے کسی عورت نے لےکر تین پیمانہ آٹے میں ملا دیا اور ہوتے ہوتے سب خمیر ہو گیا۔‘‘ فرمایا۔اگر یہ صحیح ہے تو یہ پیشگوئی ہے۔عورت سے مُراد دنیا ہے اور مسیح سے لے کر اس وقت تک تین ہی پیمانے ہوتے ہیں۔یعنی خود مسیح، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اس وقت یہ سلسلہ۔ہم نے جو تعلیم لکھی ہے اور کشتی نوح میں چھپی ہے۔اس کو پڑھ کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ تین پیمانوں کو ایک کیا گیا ہے۔عورت سے مُراد دنیا ہے۔گو دنیا نے طبعاً تقاضا کیا کہ یہ سلسلے اس طرح پر قائم ہوں۔ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو پیش کرکے مسیح کی تعلیم کے زوائد کو نکال دیا ہے۔براہین کے الہامات میںمجھے اور مسیح ابن مریم کو ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے کہا گیا ہے۔اس کے بعد نماز عشاء کا دربار ختم ہوا۔۱ ۸؍اکتوبر ۱۹۰۲ء (صبح کی سیر) یاجوج ماجوج کے تذکرہ پر فرمایا کہ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ(الانبیآء : ۹۷) کے بعد وہ خدا سے جنگ کریں گے۔اب گویا یہ خدا سے جنگ ہے۔یہ استعارہ ہے کہ جب اقبال یہاں تک پہنچ جاوے کہ کوئی سلطنت ان کے مقابل نہ ٹھہرے تو پھر خدا سے جنگ کرنی چاہیں گے۔خدا سے جنگ یہی ہے کہ نہ ان میں تضرّع اور زاری ہے اور نہ دعا کی حقیقت پر نظر ہو بلکہ اسباب اور تدابیر پر پورا بھروسہ ہو اور قضا وقدر کامقابلہ کیا جاوے۔ڈوئی کے سامنے جو ہمارا مقدمہ تھا۔اس