ملفوظات (جلد 3) — Page 209
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۹ جلد سوم بیمار ہی نہیں ہوتا تو غافل ہوتا ہے لیکن جب زلزلہ کی طرح ہلایا جاتا ہے پھر تبدیلی کرنی چاہتا ہے جیسے فرعون کا حال ہوا۔ دوزخ ه حدیث آتش دوزخ که گفت واعظ شیخ حدیث آتش روزگار هجران است خدا تعالیٰ سے جب انسان جدائی لے کر جاتا ہے تو اس کے تمثلات دوزخ ہوتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ کے کلام میں کذب نہیں ہے مَنْ يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا (طه: ۷۵) سچ فرمایا ہے۔ جب انسان عذاب اور درد میں مبتلا ہے اگر چہ وہ زندہ ہے لیکن مردوں سے بھی بدتر ہے۔ وہ زندگی جو مرنے کے بعد انسان کو ملتی ہے وہ صلاح اور تقوی کے بدوں نہیں مل سکتی ۔ جس کو تپ چڑھی ہوئی ہے اسے کیوں کر زندہ کہہ سکتے ہیں ۔ سخت تپ میں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ رات ہے یا دن ہے۔ شدھی اور شودر مولانا مولوی نورالدین صاحب حکیم الامت نے عرض کیا کہ روڑ کی میں بعض مسلمان آریہ ہو گئے ہیں۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ تمہیں کوئی نفع پہنچا۔ اور اب شدھ ہو کر تم کس ورن میں ہوئے ۔ اُس نے کہا کہ شودر ہوں ۔ پھر دوسرے آریہ سے پوچھا کہ آپ کون ہیں ۔ اس نے بھی کہا کہ میں شودر ہوں۔ میں نے کہا کہ کیا آپ اپنی لڑکی ان کو دے سکتے ہیں ۔ خاموش ہی ہو گیا۔ مسٹر پکٹ کے متعلق ایک نوٹ فری تھنکر سے سنا یا گیا کہ لوگوں نے اس پر حملہ کیا۔ سنایا پکٹ اور ڈوئی پولیس نے بچادیا اور پھر مسٹر ڈوئی کا اخبار سنایا گیا۔ اس نے ایک فقرہ لکھا ہے کہ مسیح نے دو ہزار سوروں کو شیطان میں ڈال دیا تو گویا سور کے لیے موزوں جگہ شیطان ہے اور پھر سور کے لئے بہترین جگہ تمہارا پیٹ ہے۔ تو اس سے نتیجہ نکلا کہ شیطان کے لیے بہترین جگہ تمہارا پیٹ ہے۔ انجیل میں ایک خمیر کی مثال ہے ۔ جس کو ناظرین کی دلچسپی کے لئے ہم انجیل کی ایک تمثیل نہیں میں سے نقل کرتے ہیں انجیل متی کے ۱۳٫۳۳ سے نقل کرتے ہیں۔ یہ مثال ڈوئی نے بیان کی ہے اور اس پر حجۃ اللہ نے مختصر سی تقریر کی۔ وہ ذیل میں درج ہو گی ۔ وہ مثال انجیل میں یوں لکھی ہے۔