ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 207 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 207

اِنَّ شَانِئَكَ هُوَالْاَبْتَرُ (الکوثر : ۲ تا ۴)۔اﷲ تعالیٰ نے ختمِ نبوت کی آیت میں فرمایا ہے کہ جسمانی طور پر آپ اَبّ نہیں مگر روحانی سلسلہ آپ کا جاری ہے۔لاکن خبر مافات کے لیے آتا ہے۔اﷲ تعالیٰ کہتا ہے کہ آپ خاتم ہیں۔آپ کی مُہر سے نبوت کا سلسلہ چلتا ہے۔ہم خودبخود نہیں بن گئے۔خدا تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے موافق جو بنایا وہ بن گئے۔یہ اس کا فعل اور فضل ہے يَفْعَلُ مَا يَشَآءُ۔خدا نے جو وعدے نبیوں سے کیے تھے ان کا ظہور ہوا ہے۔براہین میں یہ الہام اس وقت سے درج ہے وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا۔صَدَقَ اللہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَکَانَ اَمْرًا مَّفْعُوْلًا وغیرہ اس قسم کے بیسیوں الہام ہیں جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ایسا ہی ارادہ فرمایا ہوا تھا۔اس میں ہمارا کچھ تصرّف نہیں۔کیا جس وقت اﷲ تعالیٰ نے نبیوں سے یہ وعدے فرمائے ہم حاضر تھے؟ جس طرح خدا تعالیٰ مرسل بھیجتا ہے،اسی طرح اس نے یہاں اپنے وعدہ کو پورا کیا۔آئندہ کے لیے اگر اسی قسم کے جلسے گفتگو کے ہوں تو سوالات پہلے قلمبند ہونے چاہئیں تا کہ ان کے جوابات دیکھ لیے جائیں کیونکہ ہم تو ان بحثوں کا سلسلہ بند کر چکے ہیں۔چونکہ یہ کوئی بٹیر بازی نہیں اس لیے ضروری ہے کہ پہلے سے مرتّب ہو جاوے۔حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب نے عرض کیا کہ حضور نے جو لکھا ہے کہ سورئہ نور سے نور حاصل کرو۔یہ ایک لطیف نکتہ معرفت ہے۔ایک شخص نے سوال لکھ کر بھیجا تھا کہ میرے دادا نے مکان کے ایک حصہ ہی کو مسجد بنایا تھا اور اب اس کی ضرورت نہیں رہی ہے تو کیا اس کو مکان میں ملا لیا جاوے؟ فرمایا۔ہاں۔ملا لیا جاوے۔زاں بعد بعد نماز عشاء اجلاس ختم ہوا۔۱