ملفوظات (جلد 3) — Page 206
اس پر حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب حکیم الامت نے عرض کیا کہ گور داسپور میں ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے کچھ سوال کیے۔میں نے کہا تم نے کسی راستباز کو دنیا میں مانا ہے یا نہیں۔جن دلائل سے اس کو مانا ہے اسی دلیل سے حضرت اقدس سچے ہیں۔پھر خاموش ہو گیا۔فرمایا۔یہ لوگ جو بار بار پوچھتے ہیں کہ قرآن میں کہاں نام ہے؟ ان کو معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ نے میرا نام احمد رکھا ہے۔بُوْرِکْتَ یَا اَحْـمَدُ وغیرہ بہت سے الہام ہیں۔میرا نام محمد رکھا مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ۔اور احمد نام پر ہی ہم بیعت لیتے ہیں۔کیا یہ نام قرآن شریف میں نہیں ہیں؟ پھر جس قدر میرے نام آدم، عیسیٰ، داؤد، سلیمان وغیرہ رکھے ہیں وہ سب قرآن میں موجود ہیں۔ماسوا اس کے یہ سلسلہ اپنے ساتھ ایک علمی ثبوت رکھتا ہے۔اگر ان علمی امور کو یکجائی طور پر دیکھا جاوے تو آفتاب کی طرح اس سلسلہ کی سچائی روشن نظر آتی ہے۔خدا تعالیٰ نے میرے سارے نبیوں کے نام رکھے ہیں اور آخر جَرِیُّ ﷲِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَاءِ کہہ دیا ہے۔مقامِ خاتم النّبِیّین ہم جس طرح پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النّبِیّین مانتے ہیں۔اور پھر یہ کہتے ہیں کہ خدا نے میرا نام نبی رکھا یہ بالکل سچی بات ہے۔ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو چشمہ افادات مانتے ہیں۔ایک چراغ اگر ایسا ہو جس سے کوئی دوسرا روشن نہ ہو وہ قابل تعریف نہیں ہے مگر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم ایسا نور مانتے ہیں کہ آپ سے دوسرے روشنی پاتے ہیں۔یہ جو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ (الاحزاب : ۴۱) یہ بالکل درست ہے۔خدا تعالیٰ نے آپؐکی جسمانی ابوت کی نفی کی۔لیکن آپ کی روحانی ابوت کا استثنا کیا ہے۔اگر یہ مانا جاوے جیسا کہ ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ آپ کا نہ کوئی جسمانی بیٹا ہے نہ روحانی تو پھر اس طرح پر معاذ اﷲ یہ لوگ آپ کو ابتر ٹھہراتے ہیں، مگر ایسا نہیں آپ کی شان تو یہ ہے کہ اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ۔فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ۔اِنَّ شَانِئَكَ