ملفوظات (جلد 3) — Page 13
فرمایا۔نشانات کس سے صادر ہوتے ہیں۔جس کے اعمال بجائے خود خوارق کے درجہ تک پہنچ جائیں۔مثلاً ایک شخص خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کرتاہے وہ ایسی وفاداری کرے کہ اُس کی وفا خارقِ عادت ہوجاوے۔اُس کی محبت اُس کی عبادت خارقِ عادت ہو۔ہر شخص ایثار کرسکتاہے اور کرتابھی ہے لیکن اس کا ایثار خارقِ عادت ہو۔غرض اس کے اخلاق، عبادات اور سب تعلقات جو خدا تعالیٰ کے ساتھ رکھتاہے اپنے اندر ایک خارق عادت نمونہ پیداکریں۔تو چونکہ خارقِ عادت کا جواب خارقِ عادت ہوتاہے اس لیے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر نشانات ظاہر کرنے لگتاہے۔پس جو چاہتا ہے کہ اس سے نشانات کاصدور ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنے اعمال کو اس درجہ تک پہنچائے کہ ان میں خارقِ عادت نتائج کے جذب کی قوت پیدا ہونے لگے۔انبیاء علیہم السلام میں یہی ایک نرالی بات ہوتی ہے کہ ان کا تعلق اندرونی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایساشدید ہوتاہے کہ کسی دوسرے کاہرگز نہیں ہوتا۔ان کی عبودیت ایسا رشتہ دکھاتی ہے کہ کسی اور کی عبودیت نہیں دکھاسکتی۔پس اس کے مقابلہ میں ربوبیت اپنی تجلّی اور اظہار بھی اسی حیثیت اور رنگ کاکرتی ہے۔عبودیت کی مثال عورت کی سی ہوتی ہے کہ جیسے وہ حیا و شرم کے ساتھ رہتی ہے اور جب مرد بیاہنے جاتاہے تو وہ علانیہ جاتاہے۔اسی طرح پرعبودیت پردۂ خفا میں ہوتی ہے لیکن اُلوہیت جب اپنی تجلّی کرتی ہے تو پھر وہ ایک بیّن اَمر ہو جاتا ہے۔اور ان تعلقات کاجو ایک سچے مومن اور عبد اور اس کے ربّ میں ہوتے ہیں خارقِ عادت نشانات کے ذریعہ ظہور ہوتاہے۔انبیاء علیہم السلام کے معجزات کا یہی راز ہے اور چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلقات اللہ تعالیٰ کے ساتھ کُل انبیا ء علیہم السلام سے بڑھے ہوئے تھے اس لیے آپ کے معجزات بھی سب سے بڑھے ہوئے ہیں۔۱ ۱۵؍جنوری ۱۹۰۲ء (شب)