ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 14

طاعون اور لوگوں کی حالت طاعون کی خبریں سن کر فرمایا۔یہ خدا کی طرف سے کس قدر تنبیہ ہے اگر اب بھی دل بیدار نہ ہوں اور اب بھی خدا سے صلح کا عہد باندھنے کے لیے مستعد نہ ہوں تو کیسی بد قسمتی ہے۔افسو س ہے کہ لوگ اب بھی خدا تعالیٰ کی طرف توجہ نہیں کرتے اور فسق و فجور اور شوخیوں سے با زنہیں آتے۔اگر کسی کی اولاد اور عزیزوں پر آفت آجاوے تو ساری باتیں رہ جائیں پھر کس شیخی اور بھروسہ پر انسان خدا سے اس قدر سر کشی کرتاہے؟ وہ اُس کی حکومت سے کہیں بھاگ کر نہیں جاسکتا۔جب یہ حال ہے توسب سے بہتر اور محفوظ طریق عذاب ِالٰہی سے بچنے کا توخود اُس کی ہی پناہ میں آناہے۔وہ احمق ہے جو خدا کے حدود کو توڑ کر نکلتاہے اس لیے کہ امان پاوے۔وہ مصیبت کو بلاتاہے اور عذاب کو جذب کرتاہے۔اب وقت ہے کہ مسلمان اپنے ایمان اور توبہ کی تجدید کریں۔یہ وقت آیا ہے کہ خدا اپنا وجود دکھانا چاہتا ہے اور اپنی ہستی کو منوانا چاہتا ہے۔ایمان باللہ کے تین ذرائع اللہ تعالیٰ پرایمان لانے اور اس کو مستحکم اور مضبوط کرنے کی تین صورتیں ہیں اور خدا تعالیٰ نے وہ تینوں ہی سُورۃ فاتحہ میں میں بیان کردی ہیں۔اوّل۔اللہ تعالیٰ نے اپنے حُسن کو دکھایا ہے جب کہ جمیع محامد کے ساتھ اپنے آپ کو متّصف کیاہے۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ خوبی بجائے خود دل کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔خوبی میں ایک مقناطیسی جذب ہے جو دلوں کو کھینچتی ہے جیسے موتی کی آب، گھوڑے کی خوبصورتی، لباس کی چمک دمک، غرض یہ حُسن پھولوں، پتوں، پتھروں، حیوانات، نباتات، جمادات کسی چیز میں ہو اس کا خاصہ ہے کہ بے اختیار دل کو کھینچتاہے۔پس خدا تعالیٰ نے پہلا مرحلہ اپنی خدائی منوانے کا حُسن کا رکھاہے جب اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فرمایا کہ جمیع اقسام حمدوستائش اسی کے لیے سزاوار ہیں۔پھر دوسرا درجہ احسان کا ہوتاہے انسان جیسے حُسن پرمائل ہوتاہے ویسے ہی احسان پر بھی مائل ہوتا ہے اس لیے پھراللہ تعالیٰ نے رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔الرَّحْمٰنِ۔الرَّحِيْمِ۔مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ صفات کو