ملفوظات (جلد 3) — Page 198
ہی رہے اور جب وہاں بھی اُسے قابو نہیں ملتا تو پھر وہ یہاں تک کوشش کرتا ہے کہ اور نہیں تو دل ہی میں گناہ رہے۔گویا شیطان اپنی لڑائی کو اختتام تک پہنچاتا ہے،مگر جس دل میں خدا کا خوف ہےوہاں شیطان کی حکومت نہیں چل سکتی۔شیطان آخر اس سے مایوس ہو جاتا ہے اور الگ ہوتا ہے اور اپنی لڑائی میں ناکام و نامُراد ہو کر اسے اپنا بوریا بستر باندھنا پڑتا ہے۔بہت سے لوگ اس قسم کے ہیں کہ وہ نفسانی قیدوں اور ناجائز خیالات سے الگ ہونا نہیں چاہتے اور کوئی بات ان پر مؤثر نہیں ہوتی۔آخر خدا تعالیٰ اُن پر یوں رحم کرتا ہے کہ بعض ابتلا آجاتے ہیں تو وہ آہستہ آہستہ اُن سے باز آجاتے ہیں۔قوموں کا باہمی جدال اس وقت عام طور پر قوموں کامناظرہ خدا تعالیٰ کی طرف سے پیش آگیا ہے مگر اس میں فتح و نصرت اُسی کو ملے گی جو خدا کے نزدیک تقویٰ والی ہو اور زبان کو سنبھال کر رکھے۔بندوں پر ظلم نہ کرے۔ان کے حقوق کی رعایت کرے۔سفر میں، حضر میں بنی نوع انسان کی ہمدردی اور رعایت کرے تو خدا تعالیٰ اس کی رعایت کرتا ہے۔جب وہ تقویٰ دیکھتا ہے تووہ خود اس کا ولی اور مددگار ہوتا ہے۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کا کسی کے ساتھ کوئی جسمانی رشتہ نہیں ہے۔خدا تعالیٰ خود انصاف ہے اور انصاف کو دوست رکھتا ہے۔وہ خود عدل ہے عدل کو دوست رکھتا ہے۔اس لیے ظاہری رشتوں کی پروا نہیں کرتا۔جو تقویٰ کی رعایت کرتا ہے اسے وہ اپنے فضل سے بچاتا ہے اور اس کا ساتھ دیتا ہے۔اور اسی لیے اُس نے فرمایا اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ (الـحجرات : ۱۴) پس اس مناظرہ میں متقی ہی کامیاب ہوگا۔طائف عرب کی تجارتی اشیاء کا تذکرہ ہوتا رہا۔اور طائف کے ذکر پر فرمایا کہ وہ گویا اس ریگستان میں بہشت کا نمونہ ہے۔اسی ذکر میں یہ بھی کہا گیا کہ عرب میں بازاروں میں ہر ایک چیز کبھی ختم نہیں ہوتی ہر وقت جس قدر چاہو میسّر آسکتی ہے۔