ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 198

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۸ جلد سوم ہی رہے اور جب وہاں بھی اُسے قابو نہیں ملتا تو پھر وہ یہاں تک کوشش کرتا ہے کہ اور نہیں تو دل ہی میں گناہ رہے۔ گویا شیطان اپنی لڑائی کو اختتام تک پہنچاتا ہے، مگر جس دل میں خدا کا خوف ہے وہاں شیطان کی حکومت نہیں چل سکتی ۔ شیطان آخر اس سے مایوس ہو جاتا ہے اور الگ ہوتا سے لوگ ہے اور اپنی لڑائی میں ناکام و نامراد ہو کر اسے اپنا بوریا بستر باندھنا پڑتا ہے۔ بہت سے اس قسم کے ہیں کہ وہ نفسانی قیدوں اور ناجائز خیالات سے الگ ہونا نہیں چاہتے اور کوئی بات ان پر مؤثر نہیں ہوتی ۔ آخر خدا تعالیٰ اُن پر یوں رحم کرتا ہے کہ بعض ابتلا آ جاتے ہیں تو وہ آہستہ آہستہ اُن سے باز آ جاتے ہیں ۔ - اس وقت عام طور پر قوموں کا مناظرہ خدا تعالیٰ کی طرف سے پیش قوموں کا باہمی جدال آگیا ہے مگر اس میں فتح ونصرت اُسی کو ملے گی جو خدا کے نزدیک تقویٰ والی ہو اور ز و اور زبان کو سنبھال کر رکھے ۔ بندوں پر ظلم نہ کرے۔ ان کے حقوق کی رعایت کرے۔ سفر میں ، حضر میں بنی نوع انسان کی ہمدردی اور رعایت کرے تو خدا تعالیٰ اس کی رعایت کرتا ہے۔ جب وہ تقویٰ دیکھتا ہے تو وہ خود اس کا ولی اور مددگار ہوتا ہے۔ یہ بالکل سچی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کا کسی کے ساتھ کوئی جسمانی رشتہ نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ خود انصاف ہے او انصاف کو دوست رکھتا ہے۔ وہ خود عدل ہے عدل کو دوست رکھتا ہے۔ اس لیے ظاہری رشتوں کی پروا نہیں کرتا۔ جو تقویٰ کی رعایت کرتا ہے اسے وہ اپنے فضل سے بچاتا ہے اور اس کا ساتھ دیتا ہے۔ اور اسی لیے اُس نے فرمایا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُم (الحجرات : ۱۴) پس اس مناظرہ میں متقی ہی کامیاب ہوگا ۔ عرب کی تجارتی اشیاء کا تذکرہ ہوتا رہا۔ اور طائف کے ذکر پر فرمایا کہ طائف وہ گویا اس ریگستان میں بہشت کا نمونہ ہے۔ اسی ذکر میں یہ بھی کہا گیا کہ عرب میں بازاروں میں ہر ایک چیز کبھی ختم نہیں ہوتی ہر وقت جس قدر چاہو میسر آسکتی ہے۔