ملفوظات (جلد 3) — Page 197
صاف کر دیتی ہے۔اور عورتوں بچوں تک کو تو ہوتی ہی ہے جانوروں کو بھی ہو جاتی ہے۔بلائوں اور خوف کی افادیت طاعون بجائے خود انسان کے ایمان کے پرکھے جانے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔اب طاعون تو مان نہ مان میں ترا مہمان ہو کر آئی ہے۔اگر طاعون نہ ہوتی تو سچے مسلمان کا پتہ لگنا ہی مشکل ہوتا جو خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں وہ اس وقت طاعون کو دیکھ کر جلد تبدیلی کرتے ہیں۔یہ دیکھا گیا ہے کہ معمولی موتیں جو ہر روز ہوتی رہتی ہیں۔یہ گو انسان کو بیدار کرنے کے لیے کافی ہیں۔اگر وہ ان سے عبرت حاصل کرے۔لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ وہ ناکافی ہیں اور وہ دنیا کے تعلقات پر موت وارد کرنے کے لیے اس قدر مفید اور مؤثر ثابت نہیں ہوتی ہیں جس قدر کہ اب طاعون! اور اس کی وجہ یہ ہے کہ معمولی موتیں اب معمولی موتیں ہونے کی وجہ سے اس قدر خوفناک نہیں رہی ہیں۔لیکن اب طاعون کے حملوں سے ایک عالمگیر خوف چھا گیا ہے اور یہ وقت ہے کہ خدا تعالیٰ ہی کو اپنا ماویٰ وملجا بنایا جاوے۔غور کرکے دیکھو کہ کس قدر وحشت ہوسکتی ہے۔جب ایک گھر میں دو چار مُردے پڑے ہوں اور کوئی اٹھانے والا بھی موجود نہ ہو۔غرض طاعون اب انسان کا جو ہر کھول کر دکھادیتی ہے۔مصیبت اور مشکلات بھی انسان کے ایمان کے پرکھنے کا ایک ذریعہ ہیں۔چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ (العنکبوت : ۳)اب ہم دیکھتے ہیں کہ ہمیں جماعت کو بہت زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ موت سب سے بڑھ کر منذرات میں سے ہے۔جو تبدیلی اس نظارہ موت سے ہو سکتی ہے وہ دوسری مُنذرات سے نہیں ہوتی۔خدا تعالیٰ جو تبدیلی چاہتا ہے وہ اسی طرح ہوتی ہے۔یہ وقت ہے کہ لوگ خدا کی طرف رجوع کریں اور اس سے دعائیں مانگیں کہ ایک پاک تبدیلی انہیں عطا ہو۔جن لوگوں کی پاک تبدیلی خدا تعالیٰ دعائوں سے چاہتا ہے ان کی تبدیلی اسی طرح پر ہوتی ہے کہ اُن پر بلائیں اور خوف آتے ہیں۔جیسے فرمایا وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ الآیۃ ( البقرۃ : ۱۵۶) اگر انسان کے افعال سے گناہ دور ہو جاوے تو شیطان چاہتا ہے کہ آنکھ، کان، ناک تک