ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 196

ہزاروں کام ہوں اس کے لیے ضروری ہے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تو مقاصد عظیم الشان لے کر آئے تھے۔غرض یہ ایک چارج تھا جو آپ نے اﷲ تعالیٰ کو دیا۔اور جس میں آپ کی پوری کامیابی کی طرف پہلے اشارہ کر دیا۔اور یہ سورہ گویا آنحضرتؐکی وفات کا ایک پروانہ تھا۔یہ بھی یاد رکھو کہ انبیاء کی زندگی اسی وقت تک ہوتی ہے جب تک مصائب کا زمانہ رہے۔اس کے بعد جب فتح و نصرت کا وقت آتا ہے تو وہ گویا اُن کی وفات کا ایک پروانہ ہوتا ہے۔کیونکہ وہ اس کام کو کر چکے ہوتے ہیں جس کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔اور اصل تو یہ ہے کہ کام تو اﷲ کے فضل سے ہوتے ہیں۔مفت میں ثواب لینا ہوتا ہے۔جو شخص اس میں بھی خود غرضی، سُستی، ریا کی آمیزش کرے وہ اصل ثواب سے محروم رہ جاتا ہے۔اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ کی تائید میں ایک عرصہ ہوا میں نے خواب دیکھا تھا کہ گویا میر ناصر نواب ایک دیوار بنا رہے ہیں جو فصیلِ شہر ہے۔میں نے اس کو جودیکھا تو خوف آیا کیونکہ وہ قد آدم بنی ہوئی تھی۔خوف یہ ہوا کہ اس پر آدمی چڑھ سکتا ہے۔مگر جب دوسری طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ قادیان بہت اونچی کی گئی ہے اس لیے یہ دیوار دوسری طرف سے بہت اونچی ہے اور یہ دیوار گویا ریختہ کی بنی ہوئی ہے۔فرش کی زمین بھی پختہ کی گئی ہے۔اور غور سے جو دیکھا تو وہ دیوار ہمارے گھروں کے ارد گرد ہے۔اور ارادہ ہے کہ قادیان کے گرد بھی بنائی جاوے۔شاید اﷲ رحم کر کے ان بلائوں میں تخفیف کر دے۔۱ قادیان میں چند موتیں آج معمولی موسمی عوارض بخار وغیرہ سے یہاں کے چوڑھوں اور دوسری اقوام میں دو موتیں ہو گئی تھیں۔اس کا ذکر آیا۔فرمایا۔ایسی موتیں محرقہ تپ سے بھی ہوتی ہیں۔طاعون کے حملے ہی الگ ہوتے ہیں۔کوئی جنازہ پڑھنے اور اُٹھانے والا بھی نہیں ملتا۔بعض وقت ایک گھر میں جب یہ بَلا داخل ہوتی ہے تو اس گھر کے گھر کو