ملفوظات (جلد 3) — Page 189
کا کوئی نام تجویز کر دیں۔یہ رسالہ شیخ صاحب نے ایک عیسائی کے ٹریکٹ سچا اسلام نام کے جواب میں لکھا ہے۔جس میں اس نے عیسائیت کو سچا اسلام قرار دیا ہے۔حضرت اقدس نام تجویز کرنا چاہتے تھے کہ چند آدمیوں نے بیعت کی درخواست کی۔آپ نے فرمایا کہ بیعت کے بعد اس کا نام تجویز کرتا ہوں۔چنانچہ بیعت کے لیے وہ آدمی پیش ہوئے اور آپ نے اُن سے بیعت توبہ لی۔اور پھر اس رسالہ کا نام اسلام نصاریٰ یا اسلام النَّصاریٰ تجویز فرمایا اور یہ تقریر فرمائی۔اس رسالہ کا نام اسلام النَّصاریٰ رکھو۔اور اصل رسالہ سے پہلے ایک چھوٹا سا مقدمہ لکھو کہ سچا اسلام تو یہ ہے کہ قولاً اور فعلاً خدا تعالیٰ کو اپنی ساری طاقتیں سپرد کر دی جاویں اور اس کے احکام کے آگے گردن رکھی جاوے۔کوئی اس کا شریک نہ ٹھہرایا جاوے اور ہر قسم کی بدراہی سے دور رہیں۔مگر یہ لوگ تو اس خدا سے دور ہیں جو اسلام نے بتایا اور کل نبیوں نے جس کی تعلیم دی۔یہودی تو ابھی مَر نہیں گئے۔اُن سے پوچھو کہ وہ کس خدا کو مانتے ہیں۔وہ صاف کہتے ہیں کہ توریت نے اس خدا کو بیان کیا ہے جو قرآن نے بتایا ہے۔وہ انجیل کے خدا کو کب مانتے ہیں جو مریم کا بیٹا ہے جس کو عیسائیوں نے خدا بنایا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ اس مقدمہ میں یہ بیان کیا جاوے کہ حقیقی اسلام کیا چیز ہے؟ عقل اور روشنیٔ قلب کس کو تسلیم کرتی ہے۔کیا عیسائیت کو یا اسلام کو؟ پھر اس میں عیسائی مذہب کی خرابیاں دکھائو کہ انجیل نے کیا تعلیم دی ہے۔مثلاً طلاق ہی کامسئلہ دیکھو کہ انجیل میں لکھا ہے کہ جو طلاق دیتا ہے وہ زنا کرتا اور زنا کراتا ہے،لیکن اب واقعات اور ضرورتوں نے اُن کو مجبور کیا ہے کہ اس مسئلہ کی اہمیت کو تسلیم کریں چنانچہ امریکہ میں قانون بنایا گیا۔ایسا ہی شراب کامسئلہ ہے جس کے بغیر عشاء ربانی کامل نہیں ہوتی مگر اس کی خرابیاں دیکھو کیسی ہیں۔اور ولایت کا یہ حال ہے کہ وہاں سادہ پانی پینے والے پر ہنسی ہوتی ہے اور پینے کے قابل صرف شراب سمجھی جاتی ہے۔اور پانی کو تو کپڑے ہی دھونے کے قابل قرار دیا گیا ہے۔اس طرح پر ان کی تعلیم پر ایک مختصر سی نظر کرو۔اُن کے کھانے کے دانت اور ہیں اور دکھانے کے اور۔مگر افسوس یہ ہے کہ وہ