ملفوظات (جلد 3) — Page 187
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۷ جلد سوم نے کبھی ساری عمر باطنی نہیں کی۔ یہ ایک ایسا کام تھا جو دوسرے گدی نشینوں سے نہیں ہوا۔ اور کسی نے خط کا جواب تک نہیں دیا اور کسی کو ایسی توفیق نہیں ملی۔ میرے خیال میں وہ نیکی جو اس کی طبیعت میں سخاوت تھی اسی کا یہ ثمرہ تھا کہ اس تصدیق کی یہ توفیق ملی ۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص مسلمان ہوا۔ وہ اسلام لانے سے پہلے بڑا سخی تھا۔ اس نے عرض کی کہ یا رسول اللہ میں نے اسلام سے پہلے جو سخاوت کی ہے اس کا بھی کوئی اجر ملے گا۔ فرمایا کہ وہی روپیہ تو تجھے اسلام میں کھینچ لایا ہے۔ ( بوقت عصر ) حافظ محمد یوسف ضلعدار کی باسی کڑھی کو پھر حافظ محمد یوسف ضلعدار کے اشتہار کا ذکر ابال آیا۔ تحفہ گولڑویہ کی اشاعت پر اس ۵۰۰ نے اشتہار دیا ہے کہ کو تَقَوَّلَ عَلَيْنَا (الحاقة : (۴۵) پر جو اس سے مطالبہ کیا گیا کہ کوئی ایسا مفتری پیش کرو جس نے خدا پر تقول کیا ہو اور اپنے ان مفتریات کو شائع کیا ہو اور پھر اس نے ۲۳ برس کی مہلت پائی ہو۔ تو پانچ سو روپیہ انعام دیا جاوے گا ۔ اس طرح پر قطع الوتین ایک لغوسا اشتہار کسی امرتسری عطار نے دیا تھا۔ حافظ صاحب نے اپنے اشتہار میں اسی کا حوالہ دے کر اس بوجھ کو گردن سے اتارا۔ اور ندوہ کے جلسہ میں حضرت کو بلایا ہے۔ حضرت حجۃ اللہ نے تجویز فرمایا کہ اس کے متعلق ایک مختصر اشتہار ندوہ کو مخاطب کر کے لکھا جاوے۔ چونکہ وہ اشتہار الگ طبع ہونا ہے جو کسی وقت الحکم میں شائع ہو جاوے گا ان شاءَ اللهُ الْعَزِيزُ ۔ اس لیے ضرورت نہیں کہ اس مضمون کا اعادہ یہاں اپنے ے لفظوں میں کیا جاوے۔ ( در بار شام ) آج شیخ عبد الرشید صاحب زمیندار ہمارے لیے خدا تعالیٰ کی عدالت کافی ہے ہے و تاجر میرٹھ جو آج ہی آئے تھے حضرت اقدس سے نماز سے فارغ ہوتے ہی ملے ۔ حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے ان کو