ملفوظات (جلد 3) — Page 183
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۳ جلد سوم تو میں انکار کر دوں گا یا یہ کہہ دوں گا یہ بڑی نادانی اور شرک ہے اور آداب الدعا سے ناواقفیت ہے۔ ایسے لوگ دعا کی فلاسفی سے ناواقف ہیں ۔ قرآن شریف میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ ہر ایک دعا تمہاری مرضی کے موافق میں قبول کروں گا ۔ بیشک یہ ہم مانتے ہیں کہ قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم (المؤمن : ۶۱ ) لیکن ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ اسی قرآن شریف میں یہ بھی لکھا ہوا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ الآية (البقرة : ۱۵۶) ۔ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ میں اگر تمہاری مانتا ہے تو لَنَبْلُوَنَکم میں اپنی منوانی چاہتا ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کا احسان اور اس کا کرم ہے کہ وہ اپنے بندہ کی بھی مان لیتا ہے ورنہ اس کی الوہیت اور ربوبیت کی شان کے یہ ہرگز خلاف نہیں کہ اپنی ہی منوائے۔ وَلَنَبْلُونَكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ جو فرمایا تو اس مقام پر وہ اپنی منوانا چاہتا ہے۔ کبھی کسی قسم کا خوف آتا ہے اور کبھی بھوک آتی ہے۔ اور کبھی مالوں میں کمی واقع ہوتی ہے۔ تجارتوں میں خسارہ ہوتا ہے اور کبھی ثمرات میں کمی ہوتی ہے۔ اولا د ضائع ہوتی ہے اور ثمرات برباد ہو جاتے ہیں اور نتائج نقصان دہ ہوتے ہیں۔ ایسی صورتوں میں خدا تعالیٰ کی آزمائش ہوتی ہے۔ اس وقت خدا اپنی شانِ حکومت دکھانا چاہتا ہے اور اپنی منوانا چاہتا ہے۔ اس وقت صادق اور مومن کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ نہایت اخلاص اور انشراح صدر کے ساتھ خدا کی رضا کو مقدم کر لیتا ہے اور اس پر خوش ہو جاتا ہے۔ کوئی شکوہ اور بدظنی نہیں کرتا۔ اس لیے خدا تعالیٰ فرماتا ہے و کبشِّرِ الصُّبِرِينَ (البقرة: ۱۵۶) پس صبر کرنے والوں کو بشارت دو۔ یہ نہیں فرمایا کہ دعا کرنے والوں کو بشارت دو بلکہ صبر کرنے والوں کو ۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ انسان اگر بظاہر اپنی دعاؤں میں ناکامی دیکھے تو گھبرا نہ جاوے بلکہ صبر اور استقلال سے خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم کرے ۔ اہل اللہ کو نظر آجاتا ہے کہ یہ کام ہو نہار ہے۔ پس جب وہ یہ دیکھتے ہیں تو دعا کرتے ہیں ورنہ قضا و قدر پر راضی رہتے ہیں۔ اہل اللہ کے دو ہی کام ہوتے ہیں۔ جب کسی بلا کے آثار دیکھتے ہیں تو دعا کرتے ہیں لیکن جب دیکھتے ہیں کہ قضا و قدر اسی طرح پر ہے تو صبر کرتے ہیں۔ جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچوں کی وفات پر صبر کیا جن میں سے