ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 182 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 182

ہیں اور ایسا زور اور دبائو آکر پڑتا ہے کہ آخر وہ کام ہو ہی جاتا ہے۔بڑے بڑے راجے مہاراجے جو بعض اوقات مسلمان ہوئے۔خدا تعالیٰ کی مرضی اسی طرح پر تھی۔چاروں طرف سے ایسا زور آکر پڑا کہ بجز اسلام کے چارہ نہ رہا۔خدا کی مہلت سے فائدہ اٹھانا چاہیے مذہب ایک ایسی چیز ہے کہ مختلف مذہب کے لوگ یکجاجمع نہیں ہو سکتے۔سنّۃ اللہ کا نہ سمجھنا بھی ایک زہر ہے جو انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔قرآن شریف میں لکھا ہے کہ بعض وقت بَلا کو ہم ٹلا دیتے ہیں تو انسان بیباک ہو کر کہتا ہے کہ بَلا ٹل گئی اور پھر شوخیاں کرنے لگتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر اﷲ تعالیٰ پکڑتا ہے اور سخت پکڑتا ہے اور ہلاک کر دیتا ہے۔پس اگر طاعون کم ہو جاوے تو اس سے دلیر نہیں ہونا چاہیے۔خدا تعالیٰ کی مہلت سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔مسیح موعود کے وقت میں وبا کا پھیلنا عیسائیوں اور مسلمانوں کے نزدیک تو مسلّم ہی ہے۔ہندو بھی مانتے ہیں کہ آخری دنوں میں ایک وبا ہو گی اور اس وقت آنے والے کا نام رودّر گوپال ہوگا۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام فرقوں میں جیسے آخری دنوں میں ایک موعود کے آنے کا عقیدہ مشترک ہے ویسے ہی یہ بھی مانا گیا ہے کہ اس وقت وبا پڑے گی۔آدابِ دعا پس دعائوں سے کام لینا چاہیے اور خدا تعالیٰ کے حضور استغفار کرنا چاہیے۔کیونکہ خدا تعالیٰ غنی بے نیاز ہے اس پر کسی کی حکومت نہیں ہے۔ایک شخص اگر عاجزی اور فروتنی سے اس کے حضور نہیں آتا وہ اس کی کیا پروا کر سکتا ہے۔دیکھو! اگر ایک سائل کسی کے پاس آجاوے اور اپنا عجز اور غربت ظاہر کرے تو ضرور ہے کہ اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ سلوک ہو۔لیکن ایک شخص جو گھوڑے پر سوار ہو کر آوے اور سوال کرے اور یہ بھی کہے کہ اگر نہ دو گے تو ڈنڈے ماروں گا۔تو بجز اس کے کہ خود اس کو ڈنڈے پڑیں اور اس کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔خدا تعالیٰ سے اڑ کر مانگنا اور اپنے ایمان کو مشروط کرنا بڑی بھاری غلطی اور ٹھوکر کاموجب ہے۔دعائوں میں استقلال اور صبر ایک الگ چیز ہے اور اڑ کر مانگنا اور بات ہے۔یہ کہنا کہ میرا فلاں کام اگر نہ ہوا