ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 181

جناب سید السّادات میرنا صر نواب صاحب اور آپ کے صاحبزادہ میر محمد اسماعیل صاحب اور ڈاکٹر نور محمد صاحب اور صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی اور مفتی محمد صادق صاحب تھے۔راہ میں مسنون طریق پر جناب میر ناصر نواب صاحب کو امیر قافلہ بنایا گیا۔اسی روز عشاء کی نماز روڑ کی میں ادا کی گئی۔جناب ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب جن کے ہاں بارات جانی تھی۔اسٹیشن ریلوے روڑکی پر مع اپنے دوستوں کے استقبال کے لیے تشریف لائے اور تمام لوازماتِ تواضع جو ہونے چاہیے تھے نہایت خندہ پیشانی اور شرحِ صدر سے ادا کئے۔موت سے عبرت حضرت اقدس حسبِ معمول وقت مقررہ پر سیر کو نکلے۔ابتدائے گفتگو میں فرمایا۔ہزارہا بدبخت لوگوں سے قبریں بھری پڑی ہیں۔ہزاروں نامُراد بادشاہ ان میں ہیں۔ہزاروں ہی بے نصیب اُن میں پڑے ہیں۔انسان اگر اپنے ہی خاندان کی موت پر قیاس کرے تو عبرت حاصل کر سکتا ہے۔عمر کا سلسلہ اپنے خاندان سے معلوم کر سکتا ہے۔بعض خاندان ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کی عمریں پچاس تک پہنچتی ہیں۔ناگپور او ر ممالک متوسطہ کی طرف عمریں بہت ہی چھوٹی ہوتی ہیں۔اس طرف بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض خاندانوں کی عمریں چھوٹی ہوتی ہیں۔اصل یہ ہے کہ یہ بھید کسی کو معلوم نہیں ہوا۔انگریز محقّق نا حق ٹکریں مارتے پھرتے ہیں کہ زمینداروں کی عمریں زیادہ ہوتی ہیں یادماغی محنت کرنے والوں کی۔یہ صرف خیالی باتیں ہیں۔انسان کی عمر بہت چھوٹی ہوتی ہے۔بعض حیوانات کی عمریں بہت بڑی ہوتی ہیں۔مثلاً کچھوہ کی عمر پانچ ہزار برس تک ہوتی ہے۔اس لیے اس کو عربی میں غیلم کہتے ہیں۔کیونکہ یہ گویا ہمیشہ ہی جوان رہتا ہے۔سانپ کی عمر بھی بڑی ہوتی ہے۔ہزار ہزار برس تک۔مرضیٔ مولیٰ ؎ جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے خدا تعالیٰ جس کام کو کرنا چاہتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے۔چاروں طرف سے ایسے اسبا ب جمع ہوتے