ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 11

یہ نہیں کہا کہ تم جو مانگو گے وہی دیا جاوے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بعض اقتراحی نشانات مانگے گئے تو آپ نے یہی خدا کی تعلیم سے جواب دیا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا( بنیٓ اسـرآءیل:۹۴) خدا کے رسو ل کبھی اپنی بشریت کی حد سے نہیں بڑھتے اور وہ آدابِ الٰہی کو مدِّ نظر رکھتے ہیں۔یہ باتیں منحصر ہیں معرفت پر۔جس قدر معرفت بڑھی ہو ئی ہو تی ہے اسی قدر خدا تعالیٰ کا خوف اور خشیت دل پر مستولی ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر معرفت انبیاء علیہم السلام ہی کی ہوتی ہے۔اس لیے ان کی ہر بات اور ہر ادا میںبشریت کا رنگ جدا نظرآتا ہے اور تائید اتِ الٰہیہ الگ نظر آتی ہیں۔ہما را ایمان ہے کہ خدا تعالیٰ نشا ن دکھاتا ہے جب چاہتا ہے، وہ دنیا کو قیامت بنانا نہیں چاہتا اگر وہ ایسا کھلا ہوا ہو کہ جیسے سو رج تو پھر ایمان کیا رہا اور اس کا ثوا ب کیا؟ ایسی صورت میں کو ن بدبخت ہوگا جو انکا ر کرے گا۔نشا ن بیّن ہوتے ہیں مگر ان کو باریک بین دیکھ سکتے ہیں اور کو ئی نہیں۔اور یہ دِقّت ِنظر اور معرفت سعادت کی وجہ سے عطا ہوتی ہے اور تقویٰ سے ملتی ہے شقی اور فاسق اس کو نہیں دیکھ سکتا۔ایمان اس وقت تک ایمان ہے جب تک اس میں کوئی پہلو اخفاکا بھی ہو لیکن جب بالکل پردہ بر انداز ہو تو وہ ایمان نہیں رہتا۔اگر مٹھی بند ہو اور کوئی بتاوے کہ اس میں یہ ہے تو اس کی فراست قابلِ تعریف ہو سکتی ہے لیکن جب مٹھی کھو ل کر دکھا دی اور پھر کسی نے کہا کہ میں بتا دیتا ہوں تو کیا ہوا۔یا پہلی رات کا چاند اگر کوئی دیکھ کر بتائے تو البتہ اسے تیز نظر کہیں گے لیکن جب چودہویں کا چا ند ہوگیا اس وقت کوئی کہے کہ میں نے چاند دیکھ لیا وہ چڑھا ہوا ہے تو لوگ اس کو پاگل کہیں گے۔غر ض معجزات وہی ہوتے ہیں جس کی نظیر لانے پر دوسرے عاجز ہوں۔انسان کا یہ کام نہیں کہ وہ ان کی حد بند کرے کہ ایسا ہونا چاہیے یا ویسا ہونا چاہیے۔اس میں ضرور ہے کہ بعض پہلو اخفا کے ہوں کیو نکہ نشانات کے ظاہر کرنے سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ایمان بڑھے اور اس میں ایک عرفانی رنگ پیدا ہو جس میں ذوق ملا ہوا ہو۔لیکن جب ایسی کھلی باتیں ہوں گی تو اس میں ایمانی رنگ ہی نہیں آسکتا چہ جائیکہ عرفانی اور ذوقی رنگ ہو۔پس اقتراحی نشانات سے اس لیے منع کیا جاتا ہے اور روکا جاتا ہے کہ اس میں پہلی رگ سوءِ ادبی کی پیدا ہو جاتی ہے جو ایما ن کی جڑ کاٹ ڈا لتی ہے۔