ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 177

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۷ جلد سوم ابن مریم پر فضیلت کے دعوی کو یہ لوگ بڑی بڑی نگاہ سے محمدی سلسلہ کا خاتم الخلفاء دیکھتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی صریح وجی سے مجھے معلوم کرایا گیا ہے کہ محمدی سلسلہ کا خاتم الخلفاء موسوی سلسلہ کے خاتم الخلفاء سے بڑھ کر ہے اور غور کر کے دیکھ لو کہ ہر ایک بات اس سلسلہ کی موسوی سلسلہ سے بڑھی ہوئی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام صرف بنی اسرائیل کے لئے آئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل دنیا کے لیے مبعوث ہوئے اور فرمایا گیا مَا أَرْسَلْتُكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبياء : ١٠٨) - و ۱۰۸)۔ پھر آپ کی تائیدات موسیٰ علیہ السلام کی تائیدات سے بہت بڑھ کر ، آپ کے اعجازی نشان بڑھ کر، آپ کو جو کتاب دی گئی وہ موسیٰ کی کتاب سے بڑھ کر، ہمیشہ کے لیے۔ غرض کل سامان بڑھ کر، کامیابیاں بڑھ کر۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اس سلسلہ کا خاتم الخلفاء موسوی سلسلہ کے خاتم الخلفاء سے بڑھ کر نہ ہو؟ ہم ایسے نبی کے وارث ہیں جو رَحْمَةٌ لِلْعَالَمین اور کافةُ النّاس کے لیے رسول ہو کر آیا۔ جس کی کتاب کا خدا محافظ اور جس کے حقائق معارف سب سے بڑھ کر ہیں۔ پھر ان معارف اور حقائق کو پانے والا کیوں کم ہے؟ پھر وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ( الجمعة : (۴) جو فرمایا گیا ہے یہ مسیح موعود کے زمانہ کے لیے ہے اور اس کے مِنْهُمْ کے وہی معنی ہیں جو اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ میں مِنْكُمْ سے مراد ہے۔ اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ وہ گروہ بھی صحابہ ہی کا گروہ ہے حضرت عیسیٰ کے لیے یہ کہاں؟ اور پھر حضرت عیسیٰ اگر اسی شان سے آتے جس شان سے وہ پہلے آئے تو وہ وہ کام نہ کر سکتے جو مسیح موعود کے لیے اللہ تعالی نے ٹھہرایا ہے۔ اُن کا دائرہ بہت تنگ اور چھوٹا تھا اور مسیح موعود کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ان سب امور پر جب نگاہ کی جاوے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود (مسیح محمدی) ابن مریم (مسیح موسوی ) سے بڑھا ہوا ہے۔ اور خود عیسائیوں نے بھی مسیح کی آمد ثانی کو پہلی آمد کے مقابلہ میں بڑھ کر مانا ہے۔ خدا تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ انگریزوں کی سلطنت میں خدا تعالیٰ کا ایک احسان ہمیں پیدا کیا ورنہ اگر اسلامی سلطنت ہوتی تو ان مولویوں ہی کے قابو میں ہوتی جو قتل کے فتوے اور کفر کے فتوے دیتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے انگریزوں کو بھیج دیا