ملفوظات (جلد 3) — Page 175
خانہ نشین ہو کر لکھا ہے۔بہرحال یہ لطیف اور ملیح دیباچہ سنا یا گیا۔اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ شہر سے باہر نکلتے ہی اونٹوں کی ایک قطار کھڑی تھی۔آپ نے ان کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ بعینہٖ ریل گاڑی کی طرح ایک سلسلہ ہے اور کوئی جانور نہیں جس کو آگے پیچھے اس طرز سے باندھیں۔گاڑیاں بھی اسی طرح باندھی جاتی ہیں۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس قدر فرمایا تھا۔خاکسار ایڈیٹر اس کو وسیع کرنا چاہتا ہے۔اور اگر بات کا سلسلہ اور نہ چلا دیا جاتا تو امید تھی کہ اس نقطہ پر بات آجاتی کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ (التکویر:۵)کی پیشگوئی پوری ہو گئی ہے۔خصوصاً یہ نظارہ عرب میں اور بھی زیادہ حیرت انگیز اور مسرت بخش ہوگا۔جبکہ ان جنگلوں اور ریگستانوں میں جہاں یہ جہازِ بیابان چلا کرتا تھا۔اب اس جگہ ریل گاڑی چلتی نظر آئے گی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی پوری ہوتی دکھائی دے گی۔دودھاری تلوار گولڑوی کی کتاب سیف چشتیائی کے متعلق فرمایا کہ اس نے دوہرا کام کیا۔فیضی کی موت کا ہماری پیشگوئی کے موافق ہونا اس سے ثابت ہو گیا۔اور گولڑی کی پردہ دری ہو گئی۔اگر فیضی زندہ ہوتا تو ممکن تھا کہ وہ اصلاح کرتا یا اس ارادہ سے ہی باز آجاتا۔مگر موت نے پیشگوئی کے موافق اُسے آلیا۔اور گولڑی اس کی کچی ہانڈی کھانے بیٹھ گیا اور نہ خیال کیا کہ اس کی ہر بات کی خود بھی تو تحقیق کرلے۔نتیجہ یہ ہوا کہ اپنی پردہ دری کرالی اور محمد حسن کی بھی۔مسیح علیہ السلام بن باپ تھے حضرت مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی نے انبالہ سے آئے ہوئے ایک خط کا تذکرہ کیا کہ کشتی نوح کے اس حصہ کو پڑھ کر جو الحکم میں شائع ہوا ہے۔انبالہ سے ایک مخلص دوست لکھتے ہیں کہ مسیح کے بھائی بہنوں کا جو حضرت اقدس نے ذکر کیا ہے اس سے شبہ ہوتا ہے کہ یوسف گویا مسیح کا باپ بھی تھا؟ فرمایا۔ہم مسیح کو بن باپ پیدا ہوا ہوا مانتے ہیں اور ہماری کتابوں، رسالوں اور اخبار کی بہت سی