ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 175

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۵ جلد سوم خانہ نشین ہو کر لکھا ہے۔ بہر حال یہ لطیف اور ملیح دیبا چہ سنایا گیا۔ شہر سے باہر نکلتے ہی اونٹوں کی ایک قطار کھڑی تھی ۔ آپ نے ان کو إِذَا الْعِشَارُ عُظَلَتُ دیکھ کرفرمایا کہ یہ بعینہ ریل گاڑی کی طرح ایک سلسلہ ہے اور کوئی جانور نہیں جس کو آگے پیچھے اس طرز سے باندھیں ۔ گاڑیاں بھی اسی طرح باندھی جاتی ہیں ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس قدر فرمایا تھا۔ خاکسار ایڈیٹر اس کو وسیع کرنا چاہتا ہے۔ اور اگر بات کا سلسلہ اور نہ چلا دیا جاتا تو امید تھی کہ اس نقطہ پر بات آجاتی کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ إِذَا الْعِشَارُ عطلت (التکویر : ۵) کی پیشگوئی پوری ہو گئی ہے۔ خصوصاً یہ نظارہ عرب میں اور بھی زیادہ حیرت انگیز اور مسرت بخش ہوگا ۔ جبکہ ان جنگلوں اور ریگستانوں میں جہاں یہ جہاز بیابان چلا کرتا تھا۔ اب اس جگہ ریل گاڑی چلتی نظر آئے گی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی پوری ہوتی دکھائی دے گی ۔ گولڑوی کی کتاب سیف چشتیائی کے متعلق فرمایا کہ دو دھاری تلوار اس نے دوہرا کام کیا۔ فیضی کی موت کا ہماری پیشگوئی کے موافق ہونا اس سے ثابت ہو گیا ۔ اور گولڑی کی پردہ دری ہو گئی۔ اگر فیضی زندہ ہوتا تو ممکن تھا کہ وہ اصلاح کرتا یا اس ارادہ سے ہی باز آجاتا ۔ مگر موت نے پیشگوئی کے موافق اُسے آلیا۔ اور گولڑی اس کی کچی ہانڈی کھانے بیٹھ گیا اور نہ خیال کیا کہ اس کی ہر بات کی خود بھی تو تحقیق کرلے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اپنی پردہ دری کرالی اور محمد حسن کی بھی ۔ حضرت مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی نے انبالہ مسیح علیہ السلام بن باپ تھے سے آئے ہوئے ایک خطا کا تذکرہ کیا کشتی نوح کے اس حصہ کو پڑھ کر جو الحکم میں شائع ہوا ہے۔ انبالہ سے ایک مخلص دوست لکھتے ہیں کہ مسیح کے بھائی بہنوں کا جو حضرت اقدس نے ذکر کیا ہے اس سے شبہ ہوتا ہے کہ یوسف گو یا مسیح کا باپ بھی تھا ؟ فرمایا۔ ہم مسیح کو بن باپ پیدا ہوا ہوا مانتے ہیں اور ہماری کتابوں، رسالوں اور اخبار کی بہت سی