ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 174

پرندوںکا خالق بھی تھا۔عالم الغیب اور شافی بھی تھا اور پھر یہ بھی مانتے ہیں کہ وہ صاف آسمان پر چلا گیا ان لوگوں سے پوچھنا چاہیے کہ اس کی موت کی خبر اور پیشگوئی کہاں ہے؟ حالانکہ قرآن شریف میں صاف لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ مسیح سے پوچھے گا کہ کیا تو نے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو خدا بنا لو تو حضرت مسیح اس سے اپنی بریت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں نے نہیں کہا اور پھر یہ کہتے ہیں فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ (المائدۃ:۱۱۸) لیکن اب ہم پوچھتے ہیں کہ جب کہ حضرت مسیح کو قیامت سے پہلے آسمان سے اترنا تھا تو پھر قیامت میں ان کا یہ جواب تو دروغ گویم بر روئے تو کا مصداق ہوتا ہے۔ان کو چاہیے تھا کہ وہ یہ کہتے کہ یا اللہ تو نہیں جانتا کہ میں چالیس برس تک خنزیروں کو مارتا رہا ہوں اور صلیبوں کو توڑتا رہا ہوں۔فلاں کافر مارا۔فلاں مشرک قتل کیا۔فلاں صلیب پرست کا سر قلم کیا۔یہ جواب ان کو تو دینا چاہیے تھا اب وہ جو اپنی لاعلمی ظاہر کرتے ہیں تو ہمارے مخالف بتائیں کہ کیا جھوٹ بولتے ہیں؟ شاید ان مخالفوں کے عقیدہ کے موافق انہوں نے جھوٹ ہی بولا ہوگا جب ہی تو اللہ تعالیٰ نے پھر آگے فرمایا قَالَ اللّٰهُ هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ (المائدۃ:۱۲۰) غرض سورۂ مائدہ کا آخری رکوع مسیح علیہ السلام کی وفات اور عدمِ نزول کے لئے عجیب ہے۔فَتَدَبَّرْ!۱ یکم اکتوبر ۱۹۰۲ء (بوقتِ سیر) حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام حسب معمول حلقہ خدام میں سیر کو نکلے۔حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب فاضل امروہی نے ایک مختصر سا انٹروڈکشن اپنی جدید تصنیف کا (جو سائیں مہر شاہ گولڑی کے متعلق آپ لکھ رہے ہیں) سنانا شروع کیا۔جس میں سائیں جی کے سرقہ مضمون کُشتہ اعجاز المسیح محمد حسن بھینی پر ایک لطیف ریویو کیا ہے اور اعجاز المسیح کا جواب با وجود سرقہ مضامین کے اردو زبان میں بشکل سیف چشتیائی لکھنے سے سائیں جی کی قلعی کھولی ہے کہ اس سے وہ الزام بھی سائیں جی پر قائم ہو گیا کہ عربی تفسیر نویسی کی دعوت میں واقعی لا جواب ہو گیا تھا اور اُسے کوئی قوت اور قابلیت نہیں جو حضرت مسیح موعودؑ کے مقابلہ میں آتا، ورنہ کیا وجہ ہے کہ اعجاز المسیح کا جواب اردو میں لکھا حالانکہ