ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 161 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 161

تمام نبیوں کے کمالات یکجا جمع تھے۔اس لیے مسیح موعود جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروزی ظہور ہے۔اُن کمالات کو اپنے اندر رکھتا ہے اور اپنی دعوت کی وجہ سے مسیح ابنِ مریم سے بڑھ کر ہے۔شعر ؎ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے مسیح ناصری کا آسمان پر جانا مسیح کو جو آسمان پر چڑھایا جاتا ہے تو سوال ہو سکتا ہے کہ وہ آسمان پر کیوں چڑھے؟ کیا ضرورت پیش آئی تھی؟عقل اس کے لیے تین شقیں تجویز کرتی ہے۔اور ان تینوں صورتوں میں مسیح کا صعودثابت نہیں ہوسکتا۔شق اوّل صلیب کی لعنت سے بچنے کے لیے۔کیونکہ تورات میں لکھا ہوا تھا کہ جو صلیب پر لٹکایا جاوے وہ ملعون ہوتا ہے۔اب اگر مسیح کے صعود اِلَی السَّمَآءِ سے یہ غرض تھی کہ وہ اس لعنت سے بچ رہیں تو اس رفع کے لیے ضروری ہے کہ پہلے موت ہو۔کیونکہ یہ رفع وہ ہے جو قربِ الٰہی کامفہوم ہے اور بعد موت ملتا ہے۔اسی لیے اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ ( اٰل عـمران : ۵۶) کہا گیا۔اور یہ وہی رفع ہے جو اِرْجِعِيْٓ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً ( الفجر : ۲۹) میں خدا نے بیان فرمایا ہے اور مُفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُ(صٓ : ۵۱) سے پایا جاتا ہے۔غرض اس رفع کے لیے جو لعنت سے بچانے کے لیے ہو اور جو قربِ الٰہی کے معنوں میں ہو کیونکہ لعنت کی ضد رفع تو وہی ہے جس سے قربِ الٰہی ہو۔یہ تو بجز موت کے حاصل نہیں ہوتا۔پھر جو لوگ ہمارے مخالف ہیں وہ چونکہ موت کے قائل نہیں۔اس لیے ان کے اعتقاد کے موافق مسیح کو ابھی رفع نہیں ہوا۔کیونکہ یہ رفع انسان کی آخری زندگی کا نتیجہ ہے اور یہ ان کو حاصل نہیں ہوا۔پس اس شق کے لحاظ سے تو ان کا آسمان پر چڑھنا باطل ہوا۔دوسری غرض رفع سے یہ ہو سکتی ہے کہ حضرت مسیح کوئی نشان دکھانا چاہتے تھے مگر یہودی جن کو نشان دکھانا مقصود تھا وہ اب تک منکر ہی چلے آتے ہیں۔اُنہوں نے عین صلیب کے وقت نشان مانگا تو ان کو کوئی نشان دکھایا نہ گیا۔پھر ایک ایسا نشان جو اُن کو دکھانا مقصود تھا وہ بجز شاگردوں کے کسی اور کو نہ دکھایا گیا۔کیا یہ تعجب کی بات نہیں۔چاہیے تو یہ تھا کہ صلیب پر جب ان سے نشان مانگا گیا تھا توا س