ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 160

َكَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ عَظِيْمًا ( النِّسآء : ۱۱۴) اور اصل یہ ہے کہ انسان بچتا بھی فضل سے ہی ہے۔پس جس شخص پر خدا تعالیٰ کا فضل عظیم ہو اور جس کو کُل دنیا کے لیے مبعوث کیا گیا ہو اور جو رَحْـمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن ہو کر آیا ہو۔اُس کی عصمت کا اندازہ اسی سے ہو سکتا ہے۔عظیم الشّان بلندی پر جو شخص کھڑا ہے ایک نیچے کھڑا ہوا اس کامقابلہ کیا کرسکتا ہے؟ مسیح کی ہمت اور دعوت صرف بنی اسرائیل کی گم شدہ بھیڑوں تک محدود ہے۔پھر اس کی عصمت کا درجہ بھی اسی حدتک ہونا چاہیے۔لیکن جو شخص کُل عالَم کی نجات اور رَستگاری کے واسطے آیا ہے۔ایک دانش مند خود سوچ سکتا ہے کہ اس کی تعلیم کیسی عالمگیر صداقتوں پر مشتمل ہو گی اور اسی لیے وہ اپنی تعلیم اور تبلیغ میں کس درجہ کا معصوم ہوگا۔حضرت مسیح ایک بار چھوڑ ہزار بار کہیں کہ میں خدا ہوں لیکن کون ان کی خدائی کا اعتراف کر سکتا ہے جبکہ انسانیت کا اقبال بھی آپ کے وجود میں نظر نہیں آتا۔دشمنوں کے نرغہ میں آپ پھنس جاتے ہیں اور اُن سے طمانچے کھاتے ہوئے صلیب پر لٹکائے جاتے ہیں۔باوجود یکہ وہ طعن کرتے ہیں کہ اگر تو خدا کا بیٹا ہے تو صلیب سے اُتر آ مگر آپ خاموش ہیں اور کوئی خدائی کرشمہ نہیں دکھاتے۔برخلاف اس کے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف خسروپرویز نے منصوبہ کیا اور آپ کو گرفتار کر کے قتل کرنا چاہا۔مگر اسی رات خود ہی ہلاک ہو گیا۔اور ادھر حضرت مسیح کو ایک معمولی چپراسی پکڑ کر لے جاتا ہے۔تائید الٰہی کا کوئی پتہ نہیں ملا۔غرض جس قدر ان امور کی تنقیح کی جاوے گی اسی قدر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدارجِ عالیہ معلوم ہوں گے اور آپ ایک بلند مینار پر کھڑے دکھائی دیں گے اور مسیح آپ سے مقابلہ کرنے میں بہت ہی نیچے کھڑے ہوں گے۔اس سے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور فضیلت کیا ہو گی کہ تیرہ سو برس بعد اپنے نفوسِ قدسیہ سے وہ ایک انسان کو تیار کرتے ہیں جو مسیح ابنِ مریم پر فضیلت پاتا ہے۔بلحاظ اپنے کام اور کامیابی کے یعنی مسیح موعود سے مقابلہ کرنے میں بھی مسیح اپنی کامیابی اور بعثت کے لحاظ سے کم ہے۔کیونکہ محمدی مسیح محمدی کمالات کا جامع ہے۔جیسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میں