ملفوظات (جلد 3) — Page 148
ہے بلکہ یہاں تو اس قدر ثبوت اور نشان اس نے جمع کر دئیے ہیں کہ سلسلہ نبوت میں اس کی نظیریں بہت تھوڑی ملیں گی۔اللہ تعالیٰ نے کوئی پہلو ثبوت کا خا لی نہیں رکھا۔نصو صِ قرآنیہ و حدیثیہ ہماری تائید کرتے ہیں اور عقل اور قانو نِ قدرت ہماری مؤید و معاون ہیں۔آسمانی تائیدات اور شواہد ہمارے ساتھ ہیں۔پھر کسی پہلو میں کمی نہیں۔میں نے ارادہ کیا ہوا ہے کہ اپنی جماعت کی سہو لت اور آسانی کے لیے تین قسم کی تر تیبیں اپنے دعاوی اور دلائل کے متعلق دوں اور پھر وہ تر تیب شدہ نقشہ چھاپ دیا جاوے۔ایک نقشہ تو حرو فِ تہجی کی تر تیب پر ان نصوصِ قرآنیہ اورحدیثیہ کاہو جو ہمارے مؤید ہیں دوسرا نقشہ عقلی دلائل اور قانونِ قد رت کے شواہد کا ہو۔یہ بھی حرو فِ تہجی کی ترتیب سے ہو۔ایسا ہی تیسرا نقشہ ان نشانات اورتائیدات ِسماویہ کا ہو جو ہمارے لیے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیے تھے۔یا خدا تعالیٰ نے ہمارے ہاتھ پر ظاہر کئے۔مثلاًان کی ترتیب یوں سمجھئے۔(الف) ۱۔اِبْرَاء اس سے اِبراء کا نشان لو۔یہ وہ نشان ہے جو مسٹر ڈگلس ڈپٹی کمشنر گورد اسپور کے سامنے پورا ہوا۔امر تسر کے ایک پادری ڈاکٹر کلارک نے مجھ پر اقدامِ قتل کامقدمہ بنایا تھا کہ عبدالحمید نام ایک شخص کو گویا میں نے اس کے قتل کے لیے بھیجا ہے۔یہ مقدمہ مسٹر ڈگلس کے سامنے پیش ہو ا او رخدا تعالیٰ کے وعدہ اورپیشگوئی کے موافق مجھے بَری کیا جیساکہ پہلے الہام اِبْرَاء ( بے قصورٹھہرانا ) ہو چکا تھا۔جو لوگ اس وقت یہاں ہمارے پاس موجود تھے اور دوسرے مقامات کے لوگ بھی اس اَمر کے گواہ ہیں کیونکہ مولوی عبدالکریم صاحب کی عادت ہے کہ جب کوئی الہام وہ سنتے ہیں اُسے فوراً بذریعہ خطوط پھیلا دیتے ہیں۔اس طرح پر یہ الہامات جو اس مقدمہ کے نام و نشان سے بھی پہلے ہوئے تھے ہماری اپنی جماعت میں پورے طور پر اشاعت پاچکے تھے اور وہ سب لوگ جانتے ہیں کہ مقدمہ سے پہلے اِنْ ھٰذَااِلَّا تَـھْدِیْدُالْـحُکَّامِ اور صادق آن با شد کہ ایّام بلا۔۔۔۔الخ وغیرہ الہام ہوئے تھے اور ان