ملفوظات (جلد 3) — Page 149
سب کے بعد اللہ تعالیٰ نے خبر دے دی تھی کہ اِبْرَاء ( بے قصور ٹھہرانا )۔ایک دانش مند اور سلیم الفطرت اس عظیم الشان نشان سے بہت بڑافائدہ اُٹھا سکتا ہے۔اگراللہ تعالیٰ کی عظمت دل میں نہ ہو تو اوربات ہے مگر خداترس اور متقی آدمی سمجھ لیتا ہے کہ یہ پیشگوئی اس طرز کی نہیں ہے جیسے راول ہاتھ دیکھ کر اناپ شناپ بتا دیتے ہیں۔یہ خدا کی باتیں ہیں جو قبل از وقت ہزارہا انسانوں میں مشتہر ہوئیں اور آخر اسی طرح ہوا ورنہ کیا کسی کے خیال اور وہم میں یہ بات آسکتی تھی کہ مِثل پورے طور پر مرتّب ہو جاوے اور عبدالحمید اپنا اظہار بھی دے کہ ہاں مجھے بھیجا ہے۔آخری وقت پر جو فیصلہ لکھنے کا وقت سمجھا جاتا ہے خدا تعالیٰ نے مسٹر ڈگلس کے دل میں القا کیا کہ یہ مقدمہ بناوٹی ہے اور اس کے دل کو غیر مطمئن کردیا چنانچہ اس نے کپتان لیمارچنڈ کو ( جوڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس تھا ) کہا کہ میرا دل اس سے تسلّی نہیں پاتا۔بہتر ہے کہ تم اس مقدمہ کی تفتیش کرو اور عبدالحمید سے اصل حالات معلوم کرو۔چنانچہ جب کپتان لیمارچنڈ نے اس سے پوچھا تو اس نے پھر وہی پہلا بیان دیا۔مگر جب کپتان صاحب نے اسے کہاکہ تو سچ سچ بتا۔عبدالحمید رو پڑا اور اقرار کیا کہ مجھے تو سکھایاگیا تھا۔اب بتاؤ کہ کیا یہ انسان کا کام ہے۔کیا ہر روز یہ لوگ مقدمات میں اسی طرح کیا کرتے ہیں۔واقعات پر فیصلے دیتے ہیں یا دل کی تسلیوں کو دیکھتے ہیں۔نہیں یہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ تھا جو وہ وعدہ کرچکا تھا وہی ہونا تھا۔پس اِبْرَاء کا نشان عظیم الشّان نشان ہے جو الف کی مد میں ہے۔۲۔اٰوٰی اور پھر اسی طرح اس مد میں اٰوٰی کا نشان ہے جو خدا تعالیٰ نے قادیان کوطاعون کی افراتفری سے محفوظ رکھنے کے متعلق دیا ہے اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ۔ملک میں طاعون کثرت سے پڑاہو اہے اورخدا تعالیٰ قادیان کے انتشار اور موتُ الکلاب سے محفوظ رہنے کی بشارت دیتا ہے کہ اس گاؤں کو اپنی پناہ میں لے لیا ہے۔یعنی اس گاؤں پر خصوصیت سے فضل رہے گا۔اٰوٰی کے اصل معنی یہ ہیں کہ اُسے منتشر نہ کیا جاوے اور جبکہ عام طور پر قانوناً یہ اَمر روارکھا گیا ہے کہ کسی گاؤں کو جبراً باہر نہ نکالا جاوے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مُراد یہ ہے کہ وہ افراتفری اور موتُ الکلاب جو دوسرے شہروں میں پڑی ہے اس سے خدا تعالیٰ قادیان کو محفوظ رکھے یعنی یہاں طاعونِ جارف نہ ہوگی۔