ملفوظات (جلد 3) — Page 136
آکر نماز پڑھتے ہیں۔چنانچہ یہ کعبہ میں آکر چھپ رہے۔اور اُنہوں نے سنا کہ جنگل کی طرف سے لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کی آواز آتی ہے اور وہ آواز قریب آتی گئی یہاں تک کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں آ داخل ہوئے اور آپ نے نماز پڑھی۔حضرت عمر کہتے ہیں کہ آپ نے سجدہ میں اس قدر مناجات کی کہ مجھے تلوار چلانے کی جرأت نہ رہی۔چنانچہ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ آگے چلے، پیچھے پیچھے میں تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے پائوں کی آہٹ معلوم ہوئی اور آپ نے پوچھا کون ہے؟ میں نے کہا کہ عمر۔اس پر آپ نے فرمایا! اے عمر! نہ تو دن کو میرا پیچھا چھوڑتا ہے اور نہ رات کو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے حضرت عمر کہتے ہیں کہ میں نے محسوس کیا کہ اب آپ بد دعا کریں گے۔اس لیے میں نے کہا کہ حضرت آج کے بعد آپ کو ایذانہ دوں گا۔عربوں میں چونکہ وعدہ کا لحاظ بہت بڑا ہوتا تھا۔اس لیے آنحضرتؐ نے یقین کر لیا۔مگر دراصل حضرت عمر کا وقت آپہنچا تھا۔آنحضرتؐکے دل میں گذرا کہ اس کو خدا ضائع نہیں کرے گا۔چنانچہ آخر حضرت عمر مسلمان ہوئے اور پھر وہ دوستیاں، وہ تعلقات جو ابو جہل اور دوسرے مخالفوں سے تھے یک لخت ٹوٹ گئے اور ان کی جگہ ایک نئی اخوت قائم ہوئی۔حضرت ابو بکر اور دوسرے صحابہ ملے اور پھر ان پہلے تعلقات کی طرف کبھی خیال تک نہ آیا۔غرض اس سلسلہ میں جو ابتلائوں کا سلسلہ ہوتا ہے بہت سی ٹھو کریں کھانی پڑتی ہیں اور بہت سی موتوں کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ہم قبول کرتے ہیں کہ ان انسانوں میں جو اس سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں ان میں بعض بزدل بھی ہوتے ہیں۔شجاع بھی ہوتے ہیں۔بعض ایسے بزدل ہوتے ہیں کہ صرف قوم کی کثرت کو دیکھ کر ہی الگ ہو جاتے ہیں۔انسان بات کو تو پورا کر لیتا ہے۔مگر ابتلا کے سامنے ٹھہرنا مشکل ہے۔خدا وند تعالیٰ فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ (العنکبوت : ۳) یعنی کیا لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ ایمان لائیں اور امتحان نہ ہو۔غرض امتحان ضروری شَے ہے۔اس سلسلہ میں جو داخل ہوتا ہے وہ ابتلا سے خالی نہیں رہ سکتا۔ہمارے بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ وہ ایک طرف ہیں اور باپ الگ۔۱