ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 119

ف مدّ ِنظر نہ ہوبلکہ اپنی حق تلفی اور شر سے بچنا مقصود ہو تو یہ میرے نزدیک منع نہیں ہے اور میں اس کا نام رشوت نہیں رکھتا۔کسی کے ظلم سے بچنے کو شریعت منع نہیں کرتی بلکہ لَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرۃ : ۱۹۶) فرمایا ہے۔خدا تعالیٰ کی آزمائش نہ کرو خان صاحب نواب خاں صاحب جاگیردار مالیر کوٹلہ نے ایک شخص کا ذکر کیا کہ وہ ارادت کا اظہار کرتا ہے۔مگر چاہتا ہے کہ اس کی توجہ نماز کی طرف ہوجاوے۔فرمایا کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ سے ایسی شرطیں کیوں کرتے ہیں۔پہلے خود کوشش کرنی چاہیے۔قرآن شریف میںاِيَّاكَ نَعْبُدُ مقدم ہے۔خدا تعالیٰ پر کسی کا حق واجب نہیں۔اگر وہ خود کوشش کرنا چاہتے ہیں تو مہینے تک یہاں آکر رہیں۔خدا نے فرمایا ہے كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ (التّوبۃ : ۱۱۹) یہاں وہ نماز پڑھنے والوں کو دیکھیں گے، باتیں سنیں گے۔خدا تعالیٰ تو غنی ہے۔اگر ساری دنیا اُس کی عبادت نہ کرے تو اس کو کیا پروا ہے۔ہزاروں موتیں انسان قبول کرے تو خدا کو خوش کرسکتا ہے۔خدا تعالیٰ کی آزمائش نہ کرو یہ اچھا طریق نہیں۔حدیث حدیثیں دو قسم کی ہیں۔اوّل وہ جوصراحۃً بلا تاویل ہماری ممد اور معاون ہیں۔جیسے اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ، فَاَمَّـکُمْ مِنْکُمْ، لَامَھْدِیَ اِلَّا عِیْسٰی وغیرہ۔اور دوم کچھ اس قسم کی ہیں جو ہمارے مخالف پیش کرتے ہیں۔ان میں سے بعض تو ایسی ہیں کہ ذرا سی توجہ سے ان کامضمون اور مفہوم ہمارے مطابق ہو جاتا ہے اور بعض بالکل محرّف و مبدّل قرآن شریف کے منشا کے خلاف اقوالِ مر دودہ ہیں۔ہم اُن کو ردّ کر دیں گے۔خدا تعالیٰ کی آواز تو ہمیشہ آتی ہےمگر مُردوں کی نہیں آتی۔اگر کبھی کسی مُردے کی آواز آتی ہے تو خدا کی معرفت یعنی خدا تعالیٰ کوئی خبر اُن کے متعلق دے دیتا ہے۔اصل یہ ہے کہ کوئی ہو خواہ نبی ہو یا صدیق یہ حال ہے کہ آنراکہ خبر شد خبرش بازنیامد۔اﷲ تعالیٰ ان کے درمیان اور اہل و عیال کے درمیان ایک حجاب رکھ دیتا ہے۔وہ سب تعلق قطع ہو جاتے ہیں۔اسی لیے فرمایا ہے فَلَاۤ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ (المؤمنون : ۱۰۲)۔