ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 117

ملفوظات حضرت مسیح موعود لكم بھی ہے۔ ۱۱۷ جلد سوم یہ ضروری بات ہے کہ بندہ اپنی حالت میں ایک پاک تبدیلی کرے اور اندر ہی اندر خدا تعالیٰ سے صلح کرلے اور یہ معلوم کرے کہ وہ دنیا میں کس غرض کے لیے آیا ہے اور کہاں تک اس غرض کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ جب تک انسان اللہ تعالیٰ کو سخت ناراض نہیں کرتا اس وقت تک کسی تکلیف میں مبتلا نہیں ہوتا۔ لیکن اگر انسان تبدیلی کرلے تو خدا تعالیٰ پھر رجوع برحمت کرتا ہے۔ اس وقت طبیب کو بھی سوجھ جاتی ہے۔ خدا تعالیٰ پر کوئی امر مشکل نہیں بلکہ اس کی تو شان ہے اِنَّمَا أَمْرُ إِذا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (ليس : ۸۳) - ایک بار میں نے اخبار میں پڑھا تھا کہ ایک ڈپٹی انسپکٹر پنسل سے ناخن کا میل نکال رہا تھا جس سے اس کا ہاتھ ورم کر گیا۔ آخر ڈاکٹر نے ہاتھ کاٹنے کا مشورہ دیا۔ اس نے معمولی بات سمجھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہلاک ہو گیا ۔ اسی طرح ایک دفعہ میں نے پنسل کو ناخن سے بنایا۔ دوسرے دن جب میں سیر کو گیا تو مجھے اس ڈپٹی انسپکٹر کا خیال آیا اور ساتھ ہی میرا ہاتھ ورم کر گیا۔ میں نے اسی وقت دعا کی اور الہام ہوا اور پھر دیکھا تو ہاتھ بالکل درست تھا اور کوئی ورم یا تکلیف نہ تھی ۔ غرض بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جب اپنا فضل کرتا ہے تو کوئی تکلیف باقی نہیں رہتی مگر اس کے لیے یہ ضروری شرط ہے کہ انسان اپنے اندر تبدیلی کرے۔ پھر جس کو وہ دیکھتا ہے کہ یہ نافع وجود ہے تو اس کی زندگی میں ترقی دے دیتا ہے۔ ہماری کتاب میں اس کی بابت صاف لکھا ہے وَ أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ (الرعد: ۱۸) ایسا ہی پہلی کتابوں سے بھی پایا جاتا ہے۔ حز قیاہ نبی کی کتاب میں بھی درج ہے۔ کتاب میں ہی درج ہے۔ انسان بہت بڑے کام کے لیے بھیجا گیا ہے لیکن جب وقت آتا ہے اور وہ اس کام کو پورا نہیں کرتا تو خدا اس کا تمام کام کر دیتا ہے۔ خادم کو ہی دیکھ لو کہ جب وہ ٹھیک کام نہیں کرتا تو آقا اس کو الگ کر دیتا ہے پھر خدا تعالیٰ اس وجود کو کیوں کر قائم رکھے جو اپنے فرض کو ادا نہیں کرتا۔ ہمارے مرزا صاحب کے پچاس برس تک علاج کرتے رہے۔ اُن کا قول تھا کہ اُن کو کوئی حکمی نسخہ لے حضرت اقدس کے والد صاحب مرحوم و مغفور ۔