ملفوظات (جلد 3) — Page 117
لَکُمْ بھی ہے۔یہ ضروری بات ہے کہ بندہ اپنی حالت میں ایک پاک تبدیلی کرے اور اندر ہی اندر خدا تعالیٰ سے صلح کر لے اور یہ معلوم کرے کہ وہ دنیا میں کس غرض کے لیے آیا ہے اور کہاں تک اس غرض کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔جب تک انسان اﷲ تعالیٰ کو سخت ناراض نہیں کرتا اس وقت تک کسی تکلیف میں مبتلا نہیں ہوتا۔لیکن اگر انسان تبدیلی کرلے تو خدا تعالیٰ پھر رجوع برحمت کرتا ہے۔اس وقت طبیب کو بھی سوجھ جاتی ہے۔خدا تعالیٰ پر کوئی اَمر مشکل نہیں بلکہ اس کی تو شان ہے اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيْـًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ( یٰسٓ : ۸۳)۔ایک بار میں نے اخبار میں پڑھا تھا کہ ایک ڈپٹی انسپکٹر پنسل سے ناخن کامیل نکال رہا تھا جس سے اس کا ہاتھ ورم کر گیا۔آخر ڈاکٹر نے ہاتھ کاٹنے کامشورہ دیا۔اس نے معمولی بات سمجھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہلاک ہو گیا۔اسی طرح ایک دفعہ میں نے پنسل کو ناخن سے بنایا۔دوسرے دن جب میں سیر کو گیا تو مجھے اس ڈپٹی انسپکٹر کا خیال آیا اور ساتھ ہی میرا ہاتھ ورم کر گیا۔میں نے اسی وقت دعا کی اور الہام ہوا اور پھر دیکھا تو ہاتھ بالکل درست تھا اور کوئی ورم یا تکلیف نہ تھی۔غرض بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جب اپنا فضل کرتا ہے تو کوئی تکلیف باقی نہیں رہتی مگر اس کے لیے یہ ضروری شرط ہے کہ انسان اپنے اندر تبدیلی کرے۔پھر جس کو وہ دیکھتا ہے کہ یہ نافع وجود ہے تو اس کی زندگی میں ترقی دے دیتا ہے۔ہماری کتاب میں اس کی بابت صاف لکھا ہے وَاَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ (الرّعد : ۱۸) ایسا ہی پہلی کتابوں سے بھی پایا جاتا ہے۔حزقیاہ نبی کی کتاب میں بھی درج ہے۔انسان بہت بڑے کام کے لیے بھیجا گیا ہے لیکن جب وقت آتا ہے اور وہ اس کام کو پورا نہیں کرتا تو خدا اس کا تمام کام کر دیتا ہے۔خادم کو ہی دیکھ لو کہ جب وہ ٹھیک کام نہیں کرتا تو آقا اس کو الگ کر دیتا ہے پھر خدا تعالیٰ اس وجود کو کیوں کر قائم رکھے جو اپنے فرض کو ادا نہیں کرتا۔ہمارے مرزا صاحب۱ پچاس برس تک علاج کرتے رہے۔اُن کا قول تھا کہ اُن کو کوئی حکمی نسخہ