ملفوظات (جلد 3) — Page 116
مخلوق پر ست دانش مند کہاں ! حضرت امام حسین کی فضیلت کے دلائل یا دعاوی جو سید علی حائری نے بیان کیے ہیں۔اُن کے تذکرے پر حضرت اقدس نے ایک موقع پر فرمایاکہ مخلوق پرست کبھی دانش مند نہیں ہو سکتے اور اب تو زمانہ بھی ایسا آگیا ہے۔علمی تحقیقات اور ایجادوں نے خود دلوں پر ایک اثر کیا ہے اور لوگ سمجھنے لگ گئے ہیں کہ یہ خیالی امور ہیں۔۱ ۱۱؍اگست ۱۹۰۲ء (بوقتِ سیر) ایک قریشی صاحب کئی روز سے بیمار ہو کر دار الامان میں حضرت حکیم الامت کے علاج کے لیے آئے ہوئے ہیں۔اُنہوں نے متعدّد مرتبہ حضرت حجۃاﷲ کے حضور دعا کے لیے التجا کی۔آپ نے فرمایا۔ہم دعا کریں گے۔تیمارداری ۱۰؍اگست کی شام کو اس نے بذریعہ حضرت حکیم الامت التماس کی کہ میں حضور مسیح موعودؑ کی زیارت کا شرف حاصل کرنا چاہتا ہوں مگر پائوں کے متورّم ہونے کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکتا۔حضرت نے خود اا؍اگست کو اُن کے مکان پر جا کر دیکھنے کا وعدہ فرمایا چنانچہ وعدہ کے ایفا کے لیے آپ سیر کو نکلتے ہی خدام کے حلقہ میں اس مکان پر پہنچے جہاں وہ فروکش تھے۔آپ کچھ دیر تک مرض کے عام حالات دریافت فرماتے رہے۔زاں بعد بطور تبلیغ فرمایا کہ قبولیتِ دعا کی شرط میں نے دعا کی ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ نری دعائیں کچھ نہیں کر سکتی ہیں۔جب تک اﷲ تعالیٰ کی مرضی اور اَمر نہ ہو۔دیکھو! اہلِ حاجت لوگوں کو کس قدر تکالیف ہوتی ہیں مگر حاکم کے ذرا کہہ دینے اور توجہ کرنے سے وہ دور ہو جاتی ہیں۔اسی طرح پر اﷲ تعالیٰ کے اَمر سے سب کچھ ہوتا ہے۔میں دعا کی قبولیت کو اس وقت محسوس کرتا ہوں جب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اَمر اور اِذن ہوکیونکہ اس نے اُدْعُوْنِیْ تو کہا ہے مگر اَسْتَجِبْ