ملفوظات (جلد 3) — Page 115
جو کچھ کہا ہے اس پر اگر زیادہ غور کی جاوے تو امید ہے قرآن شریف سے بھی کوئی نَصّ مل جاوے۔بعد نماز عشاء حضور تشریف لے گئے۔۱ ۱۰ ؍اگست ۱۹۰۲ء ۱۰؍اگست کی سیر میں شیعوں کے لاہوری مجتہد سید علی حائری کے دوسرے اشتہار یا رسالہ کا تذکرہ تھا۔جس میں علی حائری نے لغو اور بے معنی طریق پر حضرت امام حسین کی فضیلت کو کل انبیاء پر ثابت کرنے کی بالکل بیہودہ کوشش کی ہے۔اور ضمناً اس اَمر پر بھی ذکر ہوا کہ ہمارے مخالفین مکذّبین کا جو انجام ہوا ہے وہ ایک زبردست نشان ہے۔مثلاً غلام دستگیر کا اپنی کتاب میں مباہلہ کرنا اور پھر اس کے چند روز بعد مَرجانا یا مولوی اسماعیل علیگڑھی کامباہلہ کرنا اور ہلاک ہونا، ایسا ہی لدھیانہ کے اوّل المکذّبین مولوی عبدالعزیز کا تباہ ہونا یا دوسرے مخالفوں کامختلف اذیتوں اور تکلیفوں میں مبتلا اور اس سلسلہ کا کامیاب اور با مُراد ہونا یہ عظیم الشّان نشان ہے۔سچا سُکھ پھر باتوں ہی باتوں میں جناب نواب صاحب نے ذکر کیا کہ ایک شخص سے میں نے کہا کہ مومن ہی دنیا و آخرت میں سچا سُکھ پاتا ہے۔جس پر وہ شخص کہنے لگا کہ پھر سب سے بڑے مومن تو انگریز ہیں۔اس پر حضرت حجۃاﷲ نے جو کچھ فرمایا۔اس کا خلاصہ وہ عنوان ہے جو ہم نے ا س نوٹ کے حاشیہ میں لکھ دیا ہے۔حضرت اقدسؑ نے فرمایاکہ یہ بات غلط ہے کہ سچا سکھ یا راحت کفار کو حاصل ہے۔ان لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ یہ لوگ شراب جیسی چیزوں کے کیسے غلام ہیں اور اُن کے حوصلے کیسے پست ہیں۔اگر اطمینان اور سکینت ہو تو پھر خود کشیاں کیوں کرتے ہیں۔ایک مومن کبھی خودکشی نہیں کر سکتا۔جیسے شراب اور دوسرے نشہ بظاہر غم غلط کرنے والے مشہور ہیں اسی طرح سب سے بہتر غم غلط کرنے والا اور راحت بخشنے والا سچا ایمان ہے۔یہ مومن ہی کے لیے ہے وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ (الرّحـمٰن :۴۷)۔