ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 112

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۲ جلد سوم نظموں کے پڑھے جانے کے بعد نماز عشاء ادا کی گئی ۔ اے ۹ را گست ۱۹۰۲ء (بوقت سیر) سیر میں مختلف تذکروں کے بعد قیصر ہند کی تاجپوشی کا ذکر آیا۔ فرمایا کہ قیصر کی تاج پوشی رعیت کی بڑی خوشقسمتی ہے کہ شاہ ایڈورڈ ہفتہ ہندوستان کے سر پرست ہوئے ۔ میری رائے تو یہ ہے کہ نوجوان بادشاہ کی نسبت بوڑھا بادشاہ رعایا کے لئے بہت ہی مفید ہوتا ہے۔ کیونکہ نوجوان اپنے جذبات اور جوش کے نیچے کبھی کبھی رعایا کے حقوق اور نگہداشت کے طریقوں میں فرو گذاشت کر بیٹھتا ہے مگر عمر رسیدہ بادشاہ اپنی عمر کے مختلف حصوں میں گزر جانے کے باعث تجربہ کار ہوتا ہے۔ اس کے جذبات دبے ہوئے ہوتے ہیں۔ خدا کا خوف اس کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے۔ اس لئے وہ رعایا کے لئے بہت ہی مفید اور خیر خواہ ہوتا ہے۔ کے بوقت شام ) حضرت اقدس نماز مغرب سے فارغ ہو کر حسب معمول بیٹھ گئے ۔ تھوڑی دیر کے بعد کپور تھلہ سے آئے ہوئے دو تین احباب نے بیعت کی ۔ بیعت کے بعد ایک صاحب کی نسبت عرض کیا گیا کہ یہ قاری ہیں آپ نے فرمایا کہ کچھ سناؤ۔ چنانچہ انہوں نے حضرت اقدس کے ارشاد کے موافق سورہ مریم کا ایک رکوع نہایت ہی عمدہ طور پر پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد قاری صاحب سے حضرت اقدس معمولی امور دریافت فرماتے رہے ۔ زاں بعد قاری صاحب نے عرض کی کہ حضور بہت عرصہ سے مجھے اس امر کا اشتیاق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت مجھے ہو جاوے۔ اس لئے آپ کوئی وظیفہ مجھے بتا دیجئے کہ ایک جھلک ہو جاوے۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا۔ زیارت رسول اللہ علیہ آپ نے میری بیعت کی۔ جونی بیعت دیکھو! آپ نے میری بیعت کی۔ جو شخص بیعت میں داخل رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان مقاصد کو الحکم جلد ۶ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ راگست ۱۹۰۲ء صفحه ۷،۶ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۲ء صفحه ۶