ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 111

الحکم میں شائع کرنے کے قابل ہو سکیں گے تاہم حاصل بالمطلب کے طور پر اتنا اب بھی لکھ دیتے ہیں کہ حضرت اقدسؑ نے اس چٹھی میں ایک عظیم الشان فیصلہ کی بنیاد رکھ دی ہے۔ہمارے ناظرین اخبار کو غالباً معلوم ہوگا کہ ڈاکٹر ڈوئی کایہ دعویٰ ہے کہ وہ عہد نامہ کا رسول ہے۔وہ الیاس پیغمبر ہے جس کا آنا مسیح سے پہلے ضرو ری تھا اور اس نے اپنے اخبار میں یہ پیشگوئی کی ہے کہ وہ سلطنت، وہ انسان، وہ قوم ہلاک ہو جائے گی جو اس کو رسو ل نہیں مانتے اور مسلمانوں کا خصوصیت سے ذکر کیا ہے اور اس پیشگو ئی میں ہماری گورنمنٹ کو بھی داخل کر لیا ہے اور تمام دنیا کی سلطنتوں کو شامل کیا ہے۔حضرت اقدسؑ نے اس چٹھی کے ذریعہ ڈاکٹر ڈوئی کو دعوت کی ہے کہ اب فیصلہ کا طریق آسان ہے۔اس قدر مسلمانوں کے ہلاک کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ مسیح موعود جس کاڈاکٹر ڈوئی انتظار کرتا ہے آگیا ہے وہ میں ہوں۔پس میرے ساتھ مقابلہ کرکے یہ فیصلہ ہو سکتا ہے کہ کون کاذب اور مفتری ہے۔ڈاکٹر ڈوئی اپنے مریدوں میںسے ایک ہزار آدمی کے دستخط دے کر ایک قسم اس طرح شائع کر دے کہ ہم دونوں میں سے جو کاذب اور مفتری ہے وہ راست باز اور صادق سے پہلے ہلاک ہو جاوے۔پس پھر کاذب کی موت خود ایک نشان ہو جاوے گا۔یہ خلاصہ ہے اس چٹھی کا جس میں اور بھی بہت سے حقائق ہیں۔حضرت اقدسؑ نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہمیشہ کے لئے ثابت کر دیا جاوے کہ یہ غلط خیال ہے کہ تلوار کبھی مذہب کا فیصلہ نہیں کر سکتی یعنی مسئلہ جہاد پر روشنی ڈالی ہے اور اس کے ضمن میں حضرت مسیح کی موت اور آپ کی قبر پر بحث کی ہے اور ان واقعات کی بنا پر جو انجیل میں درج ہوئے ہیں ثابت کیا ہے کہ وہ صلیب پر نہیں مَرے بلکہ وہاں سے بچ کر نکل کھڑے ہوئے اور کشمیر میں آکر فوت ہوئے۔اس چٹھی کے ختم کرنے کے بعد مولوی عبد اللہ صاحب کشمیری نے ایک فارسی نظم غازی و گولڑی کے جواب میں پڑھی جو دوسری جگہ درج ہے۔پھر مولوی جمال الدین صاحب سیکھواں والے نے ایک پنجابی نظم تصدیق المسیح میں جو سوہل کے خیاطوں کو مخاطب کر کے لکھی گئی ہے پڑھ کر سنائی جس میں حضرت حجۃاللہ کی صداقت کامعیار آپ کی عظیم الشان کامیابیاں اور دشمنوں کی نامُرادیاں مذکور تھیں۔ان