ملفوظات (جلد 3) — Page 109
بلکہ وہ ہندوستان سے جانے والوںکے لیے اپناالگ جہاز بھیجنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں۔اس پر فرمایا کہ بیشک ہم تو ہر وقت تیار ہیں اگر یہ معلوم ہوجاوے کہ وہ کب ہوگی اور اس کے قواعد کیا ہیں تو ہم اسلام کی خوبیوں اور دوسرے مذاہب کے ساتھ اس کامقابلہ کر کے دکھاسکتے ہیں اور اسلام ہی ایسا مذہب ہے جوکہ ہر میدان میں کامیاب ہوسکتا ہے کیونکہ مذہب کے تین جُزو ہیں۔اوّل خداشناسی، مخلوق کے ساتھ تعلق اور اس کے حقوق اور اپنے نفس کے حقوق۔جس قدرمذاہب اس وقت موجود ہیں بجز اسلام کے جو ہم پیش کرتے ہیں سب نے بے اعتدالی کی ہوئی ہے۔پس اسلام ہی کامیاب ہوگا۔ذکر کیا گیا کہ وہاں بدھ مذہب ہے اس کا ذکر بھی اس مضمون میں آجانا چاہیے۔بُدھ مت فرمایا۔بدھ مذہب دراصل سناتن دھرم ہی کی شاخ ہے۔بدھ نے جو اوائل میں اپنی بیوی بچوں کوچھوڑ دیا اور قطع تعلق کر لیا، شریعت ِ اسلام نے اس کو جائز نہیں رکھا۔اسلام نے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنی اور مخلوق سے تعلق رکھنے میں کوئی تناقض بیان نہیں کیا۔بدھ نے اوّل ہی قدم پر غلطی کھائی ہے اور اس میں دہریت پائی جاتی ہے۔مجھے اس بات سے کبھی تعجب نہیں ہوتا کہ ایک کتا مُردار کیوں کھاتا ہے جس قدر تعجب اس بات سے ہوتا ہے کہ انسان انسان ہو کر پھر اپنے جیسی مخلوق کی پرستش کیوں کرتا ہے اس لیے ا س وقت جب خدا نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے تو سب سے اوّل میرا فرض ہے کہ خدا کی توحید قائم کرنے کے لیے تبلیغ او راشاعت میں کوشش کروں۔پس مضمون تیار ہوسکتا ہے اور وہاںبھیجا جاسکتا ہے۔پہلے قواعد آنے چاہئیں۔پھر فرمایا کہ اس مضمون کے پڑھنے کے لیے اگر مولوی عبدالکریم صاحب جائیں تو خوب ہے۔اُن کی آواز بڑی بارُعب اور زبردست ہے اور وہ انگریزی لکھا ہو اہو تو اُسے خوب پڑھ سکتے ہیں اور ساتھ مولوی محمد علی صاحب بھی ہوں اور ایک اور شخص بھی چاہیے۔اَلرَّفِیْقُ ثُمَّ الطَّرِیْقُ۔پھر اس سلسلہ کلام میں فرمایا۔زمانہ میں باوجود استغراق دنیا کے مذہب کی طرف بھی توجہ ہو گئی ہے اورمذہبی چھیڑچھاڑکاایسا