ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 101

ان ہی کے متعلق ہیں۔اسی سبب سے یہودیوںکو ٹھوکر لگی اور خدا کے وعدوں کے مصداق اپنی ہی قوم کو سمجھ کر تمام قوموں سے بے تعلّق اور غافل ہوگئے اور خدا کے وعدوں کے ایفاء کی آخری منزل اسی دنیا کو خیال کر کے قیامت سے بے خبر اور بہتیرے منکر ہوگئے۔فرمایا۔ہمت بلند ہونی چاہیے۔چنانچہ لکھا ہے۔ہمت بلند دار کہ دادار کردگار۔ان باتوں میں ہی اذان ہوگئی۔حضرت امام علیہ الصلوٰۃ والسلام نماز کے لیے اٹھے اور بعد نماز تشریف لے گئے۔۱ انبیاء کی بعثت کی اصل غرض انبیاء کی بعثت کی اصل غرض یہ ہو تی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایسا ایمان پیدا کریں جو اعمالِ صالحہ کی قوت عطا کرتا ہے اور گناہ سوز فطرت پیدا کرتاہے کیونکہ اعمالِ صالحہ کبھی نہیں ہوسکتے ہیں جب تک اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان اور معرفت پیدانہ ہو۔ہر ایک عمل معرفتِ صحیح اور عرفانِ کامل کے بعد اعمالِ صالحہ کی مدّ میں آتا ہے۔لوگ جوکچھ اعمالِ صالحہ کرتے ہیں یا صدقات و خیرات کرتے ہیںیہ رسم اور عادت کے طور پر کرتے ہیں اُس معرفت کا نتیجہ نہیں ہوتے جو ایمان علی اللہ کے بعد پیدا ہوتی ہے۔چونکہ دنیا کی نیکیاں اور بظاہر اعمالِ صالحہ رسم اور عادت کے طور پرہوتے ہیں اور دنیاخداشناسی اور خدارسی کے مقاموں سے دور ہوتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرماتا ہے جو آکر دنیا کو خدا تعالیٰ پر ایمان لانے کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں۔باقی تمام اُمور اسی ایمان کا نتیجہ ہوتے ہیں اس لیے اصل غرض انبیاء کے بعثت کی یہی ہوتی ہے کہ وہ انسان کو اس کی زندگی کے اصل منشا عبودیت تامّہ سے آگاہ کریں اور خدا تعالیٰ پر عرفان بخش ایمان لانے کی تعلیم دیں۔کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ انبیاء علیہم السلام تھوڑے ہوتے ہیں اور اپنے اپنے وقت پر آیا کرتے ہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمام دُنیا کو رسم اور عادت سے نجات دینے اور سچا اخلاص اور ایمان حاصل کرنے کی یہ راہ بتائی ہے کہ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ (التّوبۃ: ۱۱۹)۔یہ