ملفوظات (جلد 3) — Page 98
یہ سن کر سید صاحب اوپر شہ نشین پر بیٹھ گئے۔جناب مولانا مولوی عبد الکریم صاحب نے استفسار کیا کہ آج جناب نے کیا لکھا ہے۔مولانا ممدوح کی غرض اس قسم کے استفسار سے محض ایک تحریک کرنا ہوتی ہے کہ حضرت امامؑ کچھ بطور خلاصہ بیان فرما دیں۔فرمایا۔آج تو میں پچھلا مسودہ دیکھتا رہا کیونکہ کاتب لکھ رہا ہے۔اس پر مولوی عبد الکریم صاحب نے پھر قصیدوں کی بابت دریافت کیا جو حضرت حجۃ اللہ اس کتاب کے ساتھ منضم فرما ویں گے۔فرمایا۔وہ آخر میں لگائے جائیں گے۔نثر میں اس کے تداخل کی ضرورت نہیں۔اس لیے بعد ہی میں ان کو پورا کروں گا۔اعجاز المسیح فرمایا۔فیصلہ بہت ہی آسان تھا اگر یہ لوگ فیصلہ کرنے والے ہوتے۔اب ان کو کیا معلوم ہے کہ جب میں عربی لکھتا ہوں تو کس طرح افواج کی طرح الفاظ اور فقرے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ہاں ان کو پتہ لگ جاتا اگر یہ مقابلہ کرتے اور کچھ لکھنے کے لیے قلم اٹھاتے۔یہ جو سرقہ کا بیہودہ الزام لگاتے ہیں ہماری طرف سے ان کو اجازت ہے کہ ساری دنیا کی کتابوں سے سرقہ کر لیں۔مگر جب علمی مضمون کو ادا ہی نہیں کر سکتے اور معارف سے آگاہ ہی نہیں تو نرے الفاظ اور جملوں کے سرقہ سے کیا ہوگا۔الفاظ کو معانی کے تابع علمی رنگ میں کسی مضمون کو یہ لوگ ہرگز لکھ نہیں سکتے تو وہی مثال ہے کہ ایک شخص معمار ہو اور اینٹیں چرا کر جمع کرلے اور بس۔مگر محض اینٹیں چُرانے سے تو عمارت تیار نہیں ہوسکتی۔سرقہ کا الزام تو حریری پر بھی لگایا گیا۔یہ لوگ الفاظ کا تتبّع کرتے ہیں، مضمون کا نہیں کر سکتے۔چنانچہ حریری کی بابت بھی مشہور ہے کہ جب اسے ایک اظہار لکھنے کے لیے کہا گیا تو نہ لکھ سکا۔یہ قرآن شریف ہی کامعجزہ ہے کہ عبارت بھی فصیح و بلیغ ایسی ہے کہ اس کی نظیر نہیں مل سکتی اور مضامین بھی عالی اور علمی ہیں۔اس پر مولانا مولوی عبد الکریم صاحب نے عرض کی کہ حضور ایک بار میرے دل میں آیا کہ میں کوشش کر کے مقاماتِ حریری کی طرح مسجّع عبارت میں فرضی قصے لکھ سکتا ہوں۔آخر یہ کہ بات کھل گئی کہ الفاظ اپنے اغراض کے ماتحت کر کے افسانے لکھ لینے آسان ہیں مگر حقائق و معارف اور واقعات