ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 97 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 97

دلا کر پاکیزگی کی طرف لے جائے گا۔پس اسلام نے ان دونوں حقوق کو پورا کرنے کے لیے ایک صورت نماز کی رکھی جس میں خدا کے خوف کا پہلو رکھا ہے اور محبت کی حالت کے اظہار کے لیے حج رکھا ہے۔خوف کے جس قدر ارکان ہیں وہ نماز کے ارکان سے بخوبی واضح ہیں کہ کس قدر تذلّل اور اقرار عبودیت اس میں موجود ہے اور حج میں محبت کے سارے ارکان پائے جاتے ہیں بعض وقت شدّت محبت میں کپڑے کی بھی حاجت نہیں رہتی۔عشق بھی ایک جنون ہوتا ہے۔کپڑوں کو سنوار کر رکھنا یہ عشق میں نہیں رہتا۔سیالکوٹ میں ایک عورت ایک درزی پر عاشق تھی۔اسے بہتیرا پکڑ کر رکھتے تھے وہ کپڑے پھاڑ کر چلی آتی تھی۔غرض یہ نمونہ جو انتہائے محبت کا لباس میں ہوتا ہے وہ حج میں موجود ہے۔سر منڈایا جاتا ہے۔دوڑتے ہیں۔محبت کا بوسہ رہ گیا وہ بھی ہے جو خد اکی ساری شریعتوں میں تصویری زبان میں چلا آیا ہے پھر قربانی میں بھی کمال عشق دکھایا ہے۔اسلام نے پورے طور پر ان حقوق کی تکمیل کی تعلیم دی ہے۔نادان ہے وہ شخص جو اپنی نابینائی سے اعتراض کرتا ہے۔۱ یکم اگست ۱۹۰۲ء دار الامان کی ایک شام بعد نماز مغرب حضرت مسیح موعود حسب معمول تشریف فرما ہوئے۔سید ناصر شاہ صاحب جموں سے تشریف لائے تھے اور کئی سال بعد آئے تھے وہ پاؤں دبانے لگے۔آپؑنے فرمایا کہ ’’آپ بیٹھ جائیے‘‘ سید صاحب جوشِ ارادت اور حسنِ عقیدت کی وجہ سے چاہتے تھے کہ دیر تک قدم مبارک کو دباتے رہیں۔آپؑنے پھر کمال لُطف اور پیار سے فرمایا کہ آپ بیٹھ جائیں اَلْاَمْرُ فَوْقَ الْاَدَبِ