ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 96

موت نہیں ٹلتی مگر جو خدا کے دین کے خادم ہوں، اعلائے کلمۃ اللہ چاہتے ہوں ان کی عمر دراز کی جاتی ہے۔جو اپنی زندگی کھانے پینے تک محدود رکھتے ہیں ان کا خدا ذمہ وار نہیں۔موت مومن کے لیے خوشی کی باعث ہے کیونکہ وہ ایک مَرْکَبْ ہے جو دوست کو دوست کے پاس پہنچاتی ہے۔قرب الٰہی کے حصول کی دو چیزیں ہیں۔اول سچا ایمان۔دوم اعمالِ صالحہ۔عیسائی مذہب میں دونوں باتیں نہیں ہیں۔اصولِ ایمان کی جگہ کفارہ نے لے لی اور اس کے ساتھ ہی اعمال صالحہ حذف ہوئے۔کیونکہ ضرورت نہ رہی۔۱ اسلامی عبادات عبادت کے دو حصے تھے۔ایک وہ جو انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرے جو ڈرنے کا حق ہے۔خدا تعالیٰ کا خوف انسان کو پاکیزگی کے چشمہ کی طرف لے جاتا ہے اور اس کی روح گداز ہو کر الوہیت کی طرف بہتی ہے اور عبودیت کا حقیقی رنگ اس میں پیدا ہو جاتا ہے۔دوسرا حصہ عبادت کا یہ ہے کہ انسان خد اسے محبت کرے جو محبت کرنے کا حق ہے اسی لیے فرمایا ہے وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ(البقرۃ: ۱۶۶) اور دنیا کی ساری محبتوں کو غیر فانی اور آنی سمجھ کر حقیقی محبوب اللہ تعالیٰ ہی کو قرار دیا جاوے۔یہ دو حق ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنی نسبت انسان سے مانگتا ہے ان دونوں قسم کے حقوق کے ادا کرنے کے لیے یوں تو ہر قسم کی عبادت اپنے اندر ایک رنگ رکھتی ہے مگر اسلام نے دو مخصوص صورتیں عبادت کی اس کے لیے مقرر کی ہوئی ہیں۔خوف اور محبت دو ایسی چیزیں ہیں کہ بظاہر ان کا جمع ہونا بھی محال نظر آتا ہے کہ ایک شخص جس سے خوف کرے اس سے محبت کیوں کر کر سکتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کا خوف اور محبت ایک الگ رنگ رکھتی ہے۔جس قدر انسان خدا کے خوف میں ترقی کرے گا اسی قدر محبت زیادہ ہوتی جاوے گی۔اور جس قدر محبتِ الٰہی میں وہ ترقی کرے گا اسی قدر خدا تعالیٰ کا خوف غالب ہو کر بدیوں اور بُرائیوں سے نفرت