ملفوظات (جلد 2) — Page 184
فرمایا۔میرا مذہب تو یہ ہے کہ جس کو بلا سے بچنا ہو وہ پوشیدہ طور پر خدا سے صلح کرلے اور اپنی ایسی تبدیلی کر لے کہ خود اسے محسوس ہووے کہ میں وہ نہیں ہوں۔خدا تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ لَايُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ( الرّعد: ۱۲ ) سچے مذہب کی جڑ خدا پر ایمان ہے اور خدا پر ایمان چاہتا ہے کہ سچی پر ہیز گاری ہو، خدا کا خوف ہو۔تقویٰ والے کو خدا تعالیٰ کبھی ضائع نہیں کرتا۔وہ آسمان سے اس کی مدد کرتا ہے۔فرشتے اس کی مدد کو اترتے ہیں۔اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ متّقی سے معجزہ ظاہر ہوجاتا ہے۔اگر انسان خدا تعالیٰ کے ساتھ پوری صفائی کرلے اور ان افعال اور اعمال کو چھوڑ دے جو اس کی نا رضا مندی کا موجب ہیں تو وہ سمجھ لے کہ ہر ایک کام برکت سے طے پا جائے گا۔ہمارا ایمان تو آسمانی کارروائیوں ہی پر ہے۔یہ سچی بات ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کسی کا ہوجائے تو سارا جہان اپنی مخالفت سے کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا۔جس کو خدا محفوظ رکھنا چاہے اس کو گزند پہنچانے والا کون ہوسکتا ہے؟ پس خدا پر بھروسا کرنا ضروری ہے اور یہ بھروسا ایسا ہونا چاہیے کہ ہر ایک شے سے بکلّی یاس ہو۔اسباب ضروری ہیں مگر خلق اسباب بھی تو خدا تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔وہ ہر ایک سبب کو پیدا کر سکتا ہے اس لئے اسباب پر بھی بھروسہ نہ کرو اور یہ بھروسہ یوں پیدا ہوتا ہے کہ نمازوں کی پابندی کرو اور نمازوں میں دعا ؤں کا التزام رکھو۔ہر ایک قسم کی لغزش سے بچنا چاہیے اور ایک نئی زندگی کی بنیاد ڈالنی چاہیے۔یہ یاد رکھو !عزیز بھی ایسے دوست نہیں ہوتے جیسے خدا عزیز ہوتا ہے۔وہ راضی ہو تو کل جہان راضی ہو جاتا ہے اگر وہ کسی پر رضا مندی ظاہر کرے تو اُلٹے اسباب کو سیدھا کر دیتا ہے۔مضر کو مفید بنا دیتا ہے یہی تو اس کی خدائی ہے۔ہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جس کے لئے دعا کی جاتی ہے اس کو ضروری ہے کہ خود اپنی صلاحیت میں مشغول رہے۔اگر وہ کسی اور پہلو سے خد اکو ناراض کردیتا ہے تو وہ دعا کے اثر کو روکنے والا ٹھہرتا ہے۔مسنون طریق پر اسباب سے مددلینا گناہ نہیں ہے مگر مقدم خدا کو رکھے اور