ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 183

میں قیام فرمایا۔مقدمہ کے متعلق باتوں کا سلسلہ شروع ہوگیااور کسی کے یہ کہنے پر کہ فریق مخالف نے بہت بیہودہ جرح کرنے کا ارادہ کیا ہوا ہے۔آپ نے فرمایا۔میں اس بات کی کچھ پروا نہیں کرتا۔مومن کا ہاتھ اوپر ہی پڑا ہے يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ (الفتح:۱۱) کافروں کی تدبیریں ہمیشہ الٹی ہوکر ان پر ہی پڑا کرتی ہیں مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ(اٰلِ عـمران : ۵۵ )۔میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ ان لوگوں کو میرے ساتھ ذاتی عداوت اور بُغض ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ میں مِلل باطلہ کے ردّ اور ہلاک کرنے کے لئے مامور کیا گیا ہوں۔میں جانتا ہوں اور میں اس میں ہرگز مبالغہ نہیں کرتا کہ مِلل باطلہ کے ردّ کرنے کے لئے جس قدر جوش مجھے دیا گیا ہے میرا قلب فتویٰ دیتا ہے کہ اس تردید و ابطال مِلل باطلہ کے لئے اگر تمام روئے زمین کے مسلمان ترازو کے ایک پلّہ میں رکھے جاویں اور مَیں اکیلا ایک طرف تو میرا پلّہ ہی وزن دار ہوگا۔آریہ، عیسائی اور دوسرے باطل ملّتوں کے ابطال کے لئے جب میرا جوش اس قدرہے پھر اگر ان لوگوں کو میرے ساتھ بغض نہ ہو تو اور کس کے ساتھ ہو۔ان کا بغض اسی قسم کا ہے جیسے جانوروں کا ہوتا ہے۔تین دن ہوئے مجھے الہام ہوا تھا اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً میں حیران ہوں یہ الہام مجھے بہت مرتبہ ہوا ہے اور عموماًمقدمات میں ہوا ہے۔افواج کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ مقابل میں بھی بڑے بڑے منصوبے کئے گئے ہیں اور ایک جماعت ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کا جوش نفسانی نہیں ہوتا ہے اس کے تو انتقام کے ساتھ بھی رحمانیت کا جوش ہوتاہے۔پس جب وہ افواج کے ساتھ آتا ہے تو اس سے صاف پایا جاتاہے کہ مقابل میں بھی فوجیں ہیں۔جب تک مقابل کی طرف سے جوش انتقام کی حد نہ ہوجاوے خدا تعالیٰ کی انتقامی قوت جوش میں نہیں آتی۔۱ ۱۶؍ جولائی ۱۹۰۱ء آج دس بجے کے بعد حضرت اقدس کو شہادت میں پیش ہونا تھا۔۔۔۔منشی فیض رحمان صاحب ٹریژری کلارک گورداسپور کے مقدمہ کے لئے دعا کے واسطے عرض کی گئی۔حضرت اقدس نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا۔۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۰۱ء صفحہ ۹ ، ۱۰