ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 92

احباب میں سے ایک کو مخالفین کی طرف سے بہت تکالیف پہنچی ہیں۔اس نے اپنا حال عرض کیا۔فرمایا۔آپ نے بہت تکالیف اُٹھائی ہیں۔یہ بات آپ میں قابلِ تعریف ہے جس قدر ابتلا ہوا ہے اسی قدر انعام بھی ہوگا۔اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ( الم نشـرح: ۷)۔مخالفین سے برتاؤ بعض مخالفین جو ہمارے دوستوں کے ساتھ سختی کرتے ہیں اور ان کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔اس کے ذکر میں اپنے دوستوں کو نرمی اور درگزر اور شرارت سے بچنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا۔مخالفوں کے مقابلہ میں جوش نہیں دکھانا چاہیے۔خصوصاً جو جوان ہیں ان کو مَیں یہ نصیحت کرتا ہوں۔ضروری ہے کہ تم جلدی جلدی میرے پاس آؤ۔معلوم نہیں کہ تم کتنا زمانہ میرے بعد بسرکرو گے۔پا س رہنے میں بہت فائدہ ہوتا ہے۔انسان اگر رُو بخدا ہو تو وہ تفسیر مجسم ہوتاہے او رپاس رہنے میں انسان بہت سی باتیں دیکھ لیتا ہے اور سیکھ لیتا ہے۔سفر کی تعریف ایک شخص کا تحریری سوال پیش ہو اکہ مجھے دس پندرہ کوس تک ادھراُدھر جانا پڑتا ہے۔مَیں کس کو سفر سمجھوں اور نمازوں میں قصر کے متعلق کس بات پر عمل کروں۔مَیںکتابوں کےمسائل نہیں پوچھتا ہوں۔حضرت امام صادقؑکا حکم دریافت کرتا ہوں۔حضرت اقدس نے فرمایا۔میرامذہب یہ ہے کہ انسان بہت دقتیں اپنے اوپر نہ ڈال لے۔عرف میں جس کو سفر کہتے ہیں خواہ وہ دو، تین کوس ہی ہو اس میں قصروسفر کے مسائل پر عمل کرے۔اِنَّـمَا الْاَعْـمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔بعض دفعہ ہم دو دو تین تین میل اپنے دوستوں کے ساتھ سیر کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں مگر کسی کے دل میں یہ خیال نہیں آتاکہ ہم سفر میں ہیں لیکن جب انسان اپنی گٹھڑی اُٹھا کر سفر کی نیت سے چل پڑتا ہے تو وہ مسافر ہوتاہے۔شریعت کی بنا دقّت پر نہیں ہے۔جس کو تم عرف میں سفر سمجھو وہی سفر ہے۔مسیح موعود کی خاطر نمازیں جمع کیے جانے کی پیشگوئی اور جیساکہ خدا کے فرائض پر عمل کیا جاتا ہے۔ویسا ہی اُس کی رخصتوں پر عمل کرنا چاہیے۔فرض بھی خدا کی طرف سے ہیں اوررخصت بھی خدا کی طرف سے۔