ملفوظات (جلد 2) — Page 92
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۲ جلد دوم احباب میں سے ایک کو مخالفین کی طرف سے بہت تکالیف پہنچی ہیں۔ اس نے اپنا حال عرض کیا۔ فرمایا۔ آپ نے بہت تکالیف اُٹھائی ہیں۔ یہ بات آپ میں قابلِ تعریف ہے جس قدرا بتلا ہوا ہے اسی قدر انعام بھی ہوگا ۔ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (الم نشرح : ) ۔ مخالفین سے برتا ؤ بعض مخالفین جو ہمارے دوستوں کے ساتھ سختی کرتے ہیں اور ان کو تکلیف پہنچاتے ہیں ۔ اس کے ذکر میں اپنے دوستوں کو نرمی اور درگزر اور شرارت سے بچنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا۔ مخالفوں کے مقابلہ میں جوش نہیں دکھانا چاہیے۔ خصوصاً جو جوان ہیں ان کو میں یہ نصیحت کرتا ہوں ۔ ضروری ہے کہ تم جلدی جلدی میرے پاس آؤ۔ معلوم نہیں کہ تم کتنا زمانہ میرے بعد بسر کرو گے۔ پاس رہنے میں بہت فائدہ ہوتا ہے۔ انسان اگر رو بخدا ہوتو وہ تفسر مجسم ہوتا ہے اور پاس رہنے میں انسان بہت سی باتیں دیکھ لیتا ہے اور سیکھ لیتا ہے۔ سفر کی تعریف ایک صف کا ہو کہ دس پندرہ تک ادھر جاناپڑتا ہے۔ ایک شخص کا تحریری سوال پیش ہوا کہ مجھے دس پندرہ کوس تک ادھر اُدھر جانا پڑتا ہے۔ سفر میں کسی کو سفر سمجھوں اور نمازوں میں قصر کے متعلق کس بات پر عمل کروں ۔ میں کتابوں کے مسائل نہیں پوچھتا ہوں۔ حضرت امام صادق کا حکم دریافت کرتا ہوں ۔ حضرت اقدس نے فرمایا۔ میرا مذہب یہ ہے کہ انسان بہت دقتیں اپنے اوپر نہ ڈال لے۔ عرف میں جس کو سفر کہتے ہیں خواہ وہ دو، تین کوس ہی ہو اس میں قصر وسفر کے مسائل پر عمل کرے۔ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ۔ بعض دفعه هم دو دو تین تین میل اپنے دوستوں کے ساتھ سیر کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں مگر کسی کے دل میں یہ خیال نہیں آتا کہ ہم سفر میں ہیں لیکن جب انسان اپنی گٹھڑی اُٹھا کر سفر کی نیت سے چل پڑتا ہے تو وہ مسافر ہوتا ہے۔ شریعت کی بنا دقت پر نہیں ہے۔ جس کو تم عرف میں سفر سمجھو وہی سفر ہے۔ اور جیسا کہ خدا کے فرائض مسیح موعود کی خاطر نماز میں جمع کیے جانے کی پیشگوئی مکمل کیا جاتا ہے ۔ دریائی پر عمل کیا ہے۔ اُس کی رخصتوں پر عمل کرنا چاہیے۔ فرض بھی خدا کی طرف سے ہیں اور رخصت بھی خدا کی طرف سے ۔