ملفوظات (جلد 2) — Page 84
۱۲؍ جنوری ۱۹۰۱ء ایک شخص نے سنایا کہ مشہور کتب فروشوںکے پاس دور دور سے آپ کی کتابوںکی مانگ آتی ہے۔فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے جو ہوا چلائی ہے۔لوگ اپنی اپنی جگہ تحقیقات میں لگے ہوئے ہیں۔علمی معجزات فرمایا۔معجزہ تو علم کا ہی بڑ اہوتا ہے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ قرآن شریف ہی تھا جو اب تک قائم ہے۔یہ ذکر تفسیر الفاتحہ کے لکھنے پر ہوا جو کہ حضرت صاحب گولڑوی۱ وغیرہ علماء کے مقابلہ میں اشتہار دے کر لکھ رہے ہیں۔فرمایا۔عالم علم سے پہچانا جاتاہے۔ہمارے مخالفین میں دراصل کوئی عالم نہیں ہے۔ایک بھی نہیں ہے ورنہ کیوں مقابلہ میں عربی فصیح بلیغ تفسیر لکھ کر اپنا عالم ہونا ثابت نہیں کرتے۔ایک آنکھوں والے کو اگر الزام دیا جاوے کہ تو نابینا ہے تو وہ غصہ کرتا ہے۔غیرت کھاتا ہے اور صبر نہیں کرتا جب تک اپنا بینا ہونے کا ثبوت نہ دے۔ان لوگوں کو چاہیے کہ اپنا عالم ہونا اپنا علم دکھا کر ثابت کریں۔فرمایا۔یہ جو کہا جاتا ہے کہ بہت سے عالموں نے اس سلسلہ کی مخالفت کی یہ غلط ہے۔خدا نے اپنی تحدیوں اور دعووں کے ساتھ علمی معجزات ہماری تائید میں دکھا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ مخالفوں میں کوئی عالم نہیں ہے اور یہ بات غلط ہے کہ عالموں نے ہماری مخالفت کی۔۱۵؍ جنوری ۱۹۰۱ء ایک عظیم معجزہ فرمایا۔آج رات کو الہام ہوا۔مَنَعَہٗ مَانِعٌ مِّنَ السَّمَآءِ یعنی اس تفسیر نویسی میں کوئی تیرامقابلہ نہ کر سکے گا۔خدا نے مخالفین سے سلب طاقت اور سلب علم