ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 77

میرے دل میں دعا کے لئے ایک جوش ڈال رکھا ہے۔قبولیت دعا کا فلسفہ دعا بڑی چیز ہے۔افسوس! لوگ نہیں سمجھتے کہ وہ کیا ہے؟ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر دعا جس طرز اور حالت پر مانگی جاوےضرور قبول ہو جانی چاہیے۔اس لئے جب وہ کوئی دعا مانگتے ہیں اور پھر وہ اپنے دل میں جمائی ہوئی صورت کے موافق اس کو پورا ہوتے نہیں دیکھتے تو مایوس اور نااُمید ہو کر اللہ تعالیٰ پر بد ظن ہو جاتے ہیں حالانکہ مومن کی یہ شان ہونی چاہیے کہ اگر بظاہر اسے اپنی دعا میں مراد حاصل نہ ہو تب بھی نا امید نہ ہو کیونکہ رحمت الٰہی نے اس دعا کو اس کے حق میں مفید نہیں قرار دیا۔دیکھو! بچہ اگر ایک آگ کے انگارے کو پکڑنا چاہے تو ماں دوڑ کر اس کو پکڑے گی بلکہ اگر بچہ کی اس نادانی پر ایک تھپڑ بھی لگاوے تو کوئی تعجب نہیں۔اسی طرح مجھے تو ایک لذّت اور سرور آجاتا ہے جب میں اس فلسفہءِ دعا پر غور کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ وہ علیم و خبیر خدا جانتا ہے کہ کون سی دعا مفید ہے۔آدابِ دعا مجھے بار ہا افسوس آتا ہے جب لوگ دعا کے لئے خطوط بھیجتے ہیں اور ساتھ ہی لکھ دیتے ہیں کہ اگر ہمارے لئے یہ دعا قبول نہ ہوئی تو ہم جھوٹاسمجھ لیں گے۔آہ!یہ لوگ آدابِ دعا سے کیسے بے خبر ہیں۔نہیں جانتے کہ دعا کرنے والے اور کرانے والے کے لئے کیسی شرائط ہیں۔اس سے پہلے کہ دعا کی جاوے یہ بد ظنی کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنے ماننے کا احسان جتانا چاہتے ہیں اور نہ ماننے اور تکذیب کی دھمکی دیتے ہیں۔ایسا خط پڑھ کر مجھے بد بو آجاتی ہے اور مجھے خیال آتا ہے کہ اس سے بہتر تھا کہ یہ دعا کے لئے خط ہی نہ لکھتا۔میں نے کئی بار اس مسئلہ کو بیان کیا ہے اور پھر مختصر طور پر سمجھاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے دوستانہ معاملہ کرنا چاہتا ہے۔دوستوں میں ایک سلسلہ تبادلہ کا رہتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ اور اس کے بندہ میں بھی اسی رنگ کا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبادلہ یہ ہے کہ جیسے وہ اپنے بندے کی ہزار ہا دعا ؤں کو سنتا اور مانتا ہے۔اس کے عیبوں پر پردہ پوشی کرتا ہے۔باوجود یکہ وہ ایک ذلیل سے ذلیل ہستی ہے لیکن اس پر فضل و رحم