ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 71

اب میں پھر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حمد ہی سے محمد اور احمد نکلا ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام تھے۔گویا حمد کے دو مظہر ہوئے اور پھر اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کے بعد اللہ تعالیٰ کی چار صفتیں رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، اَلرَّحْـمٰنِ، اَلرَّحِيْمِ، مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ بیان کی ہیں۔اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کا مظہر میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کا مظہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ظہوروں محمد اور احمد میں ہوا۔اب نبیءِ کامل صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی ان صفات اربعہ کو بیان کر کے صحابہ کرامؓ کی تعریف میں پورا بھی کر دیا۔گویا اللہ تعالیٰ ظلّی طور پر اپنی صفات دینا چاہتا ہے۔اس لئے فنا فی اللہ کے یہی معنے ہیں کہ انسان الٰہی صفات کے اندر آجائے۔مظہرِ صفاتِ باری صلی اللہ علیہ وسلم اب دیکھو کہ ان صفات اربعہ کا عملی نمونہ صحابہ میں کیسا دکھایا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پیدا ہوئے تو مکہ کے لوگ ایسے تھے جیسے بچہ دودھ پینے کا محتاج ہوتاہے گویا ربوبیت کے محتاج تھے۔وحشی اور درندوں کی سی زندگی بسر کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ماںکی طرح دودھ پلا کر ان کی پرورش کی۔پھر رحمانیت کا پَرتَو کیا۔وہ سامان دیئے کہ جن میں کوشش کو کوئی دخل نہ تھا۔قرآن کریم جیسی نعمت اور رسول کریم ؐجیسا نمونہ عطا فرمایا۔پھر رحیمیت کا ظہور بھی دکھلایا کہ جو کوششیں کیں ان پر نتیجے مترتب کیے۔ان کے ایمانوں کو قبول فرمایا اور نصاریٰ کی طرح ضلالت میں نہ پڑنے دیا بلکہ ثابت قدمی اور استقلال عطا فرمایا۔کوشش میں یہ برکت ہوتی ہے کہ خدا ثابت قدم کر دیتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میںکوئی مرتد نہ ہوا۔دوسرے نبیوں کے احباب میں ہزاروں ہوتے تھے۔حضرت مسیح کے تو ایک ہی دن میں پانسو مرتد ہو گئے اور جن پر بڑا اعتبار اور وثوق تھا ان میں سے ایک نے تو تیس درہم لے کر پکڑوا دیا اور دوسرے نے تین بار لعنت کی۔بات اصل میں یہ ہے کہ مربی کے قویٰ کا اثر ہوتا ہے۔جس قدر مربی قوی التاثیر اور کامل ہو گا ویسی ہی اس کی تربیت کا اثر مستحکم اور مضبوط ہو گا۔