ملفوظات (جلد 2) — Page 70
آپؐسب نبیوں کے بعد آئے مگر یہ صدا کہ میرا مَرنا اور میرا جینا اللہ تعالیٰ کے لئے ہے، دوسرے کے منہ سے نہیں نکلی۔مسلمان کی حقیقت اب دنیا کی حالت کودیکھو کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنے عمل سے یہ دکھایا کہ میرا مَرنا اور جینا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور یا اب دنیامیں مسلمان موجود ہیں کسی سے کہا جاوے کہ کیا تو مسلمان ہے؟ تو کہتا ہے الحمدللہ۔جس کاکلمہ پڑھتا ہے اس کی زندگی کا اُصول تو خدا کے لئے تھا مگر یہ دنیا کے لئے جیتا اور دنیا ہی کے لئے مَرتا ہے۔اس وقت تک کہ غرغرہ شروع ہوجاوے دنیا ہی اس کی مقصود ، محبوب اور مطلوب رہتی ہے پھر کیوں کر کہہ سکتا ہے کہ مَیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتا ہوں۔یہ بڑی غورطلب بات ہے۔اس کو سرسری نہ سمجھو۔مسلمان بننا آسان نہیں ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اسلام کا نمونہ جب تک اپنے اندر پیدا نہ کرلو۔مطمئن نہ ہو۔یہ صرف چھلکا ہی چھلکا ہے اگر بدوں اتباع مسلمان کہلاتے ہو۔نام اور چھلکے پر خوش ہوجانا دانش مند کاکام نہیں ہے۔لکھا ہے کہ کسی یہودی کو ایک مسلمان نے کہا کہ تو مسلمان ہوجا۔اس نے کہا کہ تو صرف نام ہی پر خوش نہ ہوجا۔مَیں نے اپنے لڑکے کا نام خالد رکھا تھا اورشام سے پہلے ہی اُس کو دفن کرآیا۔پس حقیقت کوطلب کرو۔نِرے ناموں پر راضی نہ ہوجاؤ۔کس قدر شرم کی بات ہے کہ انسان عظیم الشان نبی کا امتی کہلا کرکافروں کی سی زندگی بسرکرے۔تم اپنی زندگی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ دکھاؤ، وہی حالت پیدا کرو اور دیکھو کہ اگر وہ حالت نہیں ہے تو تم طاغوت کے پیرو ہو۔غرض یہ بات اب بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہونا انسان کی زندگی کی غرض وغایت ہونی چاہیے کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ کا محبوب نہ ہو اور خدا کی محبت نہ ملے کامیابی کی زندگی بسر نہیں کر سکتا اور یہ امر پیدا نہیں ہوتا جب تک رسول اللہؐ کی سچی اطاعت اور متا بعت نہ کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے دکھا دیا ہے کہ اسلام کیا ہے؟پس تم وہ اسلام اپنے اندر پیدا کرو تاکہ تم خدا کے محبوب بنو۔