ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 69

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۹ جلد دوم کامیاب ہو جائے گا۔ مگر یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کی عادت اسی طرح پر ہے کہ انجام خدا کے بندوں کا ہی ہوتا ہے۔ قتل کی سازشیں ، کفر کے فتوے، مختلف قسم کی ایذائیں ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْكَفِرُونَ (الصف: ۹) یہ شریر کافر اپنے منہ کی پھونکوں سے نور اللہ کو بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ اپنے نور کو کامل کرنے والا ہے۔ کافر برا مناتے رہیں۔ منہ کی پھونکیں کیا ہوتی ہیں؟ یہی کسی نے ٹھگ کہہ دیا۔ کسی نے دوکاندار اور کافر، بے دین کہہ دیا۔ غرض یہ لوگ ایسی باتوں سے چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھا دیں مگر وہ کامیاب نہیں ہو سکتے نور اللہ کو بجھاتے بجھاتے خود ہی جل کر ذلیل ہو جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے لوگوں کے لشکر آ ر آسمان پر ہوتے ہیں۔ منکر اور زمینی لوگ اُن کو دیکھ نہیں سکتے ہیں ۔ اگر ان کو معلوم ہو جاوے اور وہ ذرا سا بھی دیکھ پائیں تو ہیت سے ہلاک ہو جا ئیں مگر یہ لشکر نظر نہیں آسکتا جب تک انسان اللہ تعالیٰ کی چادر کے نیچے نہ آئے۔ سعادت عظمی کے حصول کی راہ مادہ لکی سعادت عظمی کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک ہی راہ رکھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی جاوے جیسا کہ اس آیت میں صاف فرمادیا ہے قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران: ۳۲) یعنی آؤ میری پیروی کرو تا کہ اللہ بھی تم کو دوست رکھے ۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ رسمی طور پر عبادت کرو۔ اگر حقیقت مذہب یہی ہے تو پھر نماز کیا چیز ہے اور روزہ کیا چیز ہے۔ خود ہی ایک بات سے رُکے اور خود ہی کر لے۔ اسلام محض اس کا نام نہیں ہے۔ اسلام تو یہ ہے کہ بکرے کی طرح سر رکھ دے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا مرنا، میرا جینا، میری نماز ، میری قربانیاں اللہ ہی کے لیے ہیں اور سب سے پہلے میں اپنی گردن رکھتا ہوں ۔ یہ فخر اسلام کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو اولیت کا ہے نہ ابراہیم کو نہ کسی اور کو ۔ یہ اسی کی طرف اشارہ ہے كُنْتُ نَبِيًّا وَادَمُ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِينِ ۔ اگرچہ